Showing posts with label عنایت علی خان. Show all posts
Showing posts with label عنایت علی خان. Show all posts

Sunday, 16 October 2022

دل میں کسی کی چاہ بسا کر کیا پایا کیا پاؤ گے

 گیت

دل میں کسی کی چاہ بسا کر کیا پایا کیا پاؤ گے

ہم تو پہلے ہی کہتے تھے، دیکھو تم پچھتاؤ گے

آس کی پریاں اڑتے اڑتے مُڑ مُڑ کر یہ کہتی ہیں

پل بھر کو بھی ٹھہرو گے تو پتھر کے ہو جاؤ گے

دل کہتا ہے ان حالات میں ترکِ تعلق بہتر ہے

پھر کہتا ہے بہتر تو ہے لیکن تم کر پاؤ گے

Saturday, 26 February 2022

اپنے شوہر کو نہ کر اتنا پریشاں جاناں

تضمین بر کلام احمد فراز


 ”اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں“

اپنے شوہر کو نہ کر اتنا پریشاں جاناں

ساری خوبانیاں کھا لیں مجھے گھٹلی بھی نہ دی

اتنے کنجوس تو ہوتے نہیں خوباں جاناں

تیسرے شعر پہ جاناں نے یہ جھلا کے کہا

کیا یہ بکواس لگا رکھی ہے جاناں، جاناں

Wednesday, 2 February 2022

وہ آخر اپنے گھر کا ہو گیا نا

 وہ آخر اپنے گھر کا ہو گیا نا

کلیجہ سب کا ٹھنڈا ہو گیا نا

کہا تھا دوستی اتنوں سے مت کر

بوقتِ عقد پھڈا ہو گیا نا

سیاسی کم نگاہی رنگ لائی

ہمیں پھر مارشل لا ہو گیا نا

Monday, 31 January 2022

ہم ميکشوں کا کام ابھی زير غور ہے

 ہم مے کشوں کا کام ابھی زيرِ غور ہے

جوتا چلے کہ جام، ابھی زيرِ غور ہے

بلقيس کے خصم کو ترقی بھی مل گئي

ميرے مياں کا نام ابھی زيرِ غور ہے

چھ ماہ سے مِرے مريض کی حالت تباہ ہے

نزلہ ہے يا زکام؟ ابھی زيرِ غور ہے

Friday, 31 December 2021

جب واپڈا والوں سے کہا جا کے کسی نے

 جب واپڈا والوں سے کہا جا کے کسی نے

یہ کس نے کہا ہے ہمیں راتوں کو سزا دو

بولے؛ ہمیں اقبال کا پیغام ملا تھا

اٹھو مِری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

اور اٹھتے ہوئے باس نے یہ اور کہا تھا

کاخِ اُمراء کے در و دیوار سجا دو

Tuesday, 28 December 2021

بول میری مچھلی کتنا پانی

 بول میری مچھلی (مکمل)


سنو رے لوگو نئی کہانی

ایک ہے راجہ ایک ہے رانی

راج پاٹ سب راجہ کا ہے 

رانی ہے بس نام کی رانی

پل پل اس سے پوچھ رہی ہے

Saturday, 25 December 2021

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں

بنے پھر ان کے ہمسفر مذاق ہی مذاق میں

پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں

مزے سے ہو گئی بسر مذاق ہی مذاق میں

ہُوا جدّے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ

ہم آ گئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں

Friday, 24 December 2021

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا

کہ جو میرے غم میں گھلا کیا، اسے میں نے دل سے بھلا دیا

جو جمالِ روئے حیات تھا،۔ جو دلیل راہِ نجات تھا

اسی راہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا

تِرےؐ حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی

میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

Thursday, 23 December 2021

گنگنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

 گنگنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

بڑبڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

ایک رقاص نے گا گا کے سنائی یہ خبر

ناچ گانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

لان میں تین گدھے، اور یہ نوٹس دیکھا

گھاس کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی