گیت
دل میں کسی کی چاہ بسا کر کیا پایا کیا پاؤ گے
ہم تو پہلے ہی کہتے تھے، دیکھو تم پچھتاؤ گے
آس کی پریاں اڑتے اڑتے مُڑ مُڑ کر یہ کہتی ہیں
پل بھر کو بھی ٹھہرو گے تو پتھر کے ہو جاؤ گے
دل کہتا ہے ان حالات میں ترکِ تعلق بہتر ہے
پھر کہتا ہے بہتر تو ہے لیکن تم کر پاؤ گے