ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں
بنے پھر ان کے ہمسفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہو گئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہُوا جدّے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آ گئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
اُبل پڑے کئی گٹر، مذاق ہی مذاق میں
اٹھو کہ اب نمازِ فجر کے لیے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر، مذاق ہی مذاق میں
یہاں عنایت آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں
عنایت علی خان
No comments:
Post a Comment