Showing posts with label فاخرہ نورین. Show all posts
Showing posts with label فاخرہ نورین. Show all posts

Wednesday, 1 April 2026

لہر اٹھتی ہے طوفان بنتی نہیں

 بنجر رُت کے گیت


لہر اٹھتی ہے طوفان بنتی نہیں

آگ جلتی ہے، دامن پکڑتی تو ہے

پر جلاتی نہیں

اس لیے آج کل دل کو بھاتی نہیں 

ہجر کی تپ بھی سرما کی بس دھوپ سی

Saturday, 12 October 2024

یا نبی روشنی کے سفر میں اندھیرے پڑاؤ بہت

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

مناجاتوں سے بھیگے دن


یا نبیﷺ روشنی کے سفر میں

اندھیرے پڑاؤ بہت ہو گئے

پھر سے غارِ حرا سے بشارت کوئی

اور دعوت کھلے عام پھر دیجیے

آپ کوہِ صفا پر تو موجود ہیں

رونق افروز ہیں

Tuesday, 1 October 2024

بام سے جھانک کبھی چلمن ایام سے دکھ

 اوجھل ڈھول سہانے رے


بام سے جھانک، کبھی چلمنِ ایّام سے دِکھ

چاندنی رات کی چھدرائی سپیدی سے جھلک

یا اماوس میں ہیولوں کی طرح مجھ تک آ

حاضری دُکھ میں کبھی دے کے خُوشی میں چھُپ جا

کبھی ہنستے ہوئے مِل، غم میں میسر مت ہو

فاصلہ رکھ کہ یہ قُربت کے لیے لازم ہے

Monday, 16 September 2024

گھر کی بنیاد ایسے ہلی چھت گری

  بَین کرتی ہوئی زندگی


گھر کی بُنیاد ایسے ہِلی، چھت گِری

یوں پلستر اُکھڑ کر زمیں پر گِرا

وہ جو دِیوار تھے

آج اینٹوں کی مانند کوئی کہیں

اور کوئی کہیں

میرا دل، چیختے رہنے والا یہ دل