بنجر رُت کے گیت
لہر اٹھتی ہے طوفان بنتی نہیں
آگ جلتی ہے، دامن پکڑتی تو ہے
پر جلاتی نہیں
اس لیے آج کل دل کو بھاتی نہیں
ہجر کی تپ بھی سرما کی بس دھوپ سی
بنجر رُت کے گیت
لہر اٹھتی ہے طوفان بنتی نہیں
آگ جلتی ہے، دامن پکڑتی تو ہے
پر جلاتی نہیں
اس لیے آج کل دل کو بھاتی نہیں
ہجر کی تپ بھی سرما کی بس دھوپ سی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مناجاتوں سے بھیگے دن
یا نبیﷺ روشنی کے سفر میں
اندھیرے پڑاؤ بہت ہو گئے
پھر سے غارِ حرا سے بشارت کوئی
اور دعوت کھلے عام پھر دیجیے
آپ کوہِ صفا پر تو موجود ہیں
رونق افروز ہیں
اوجھل ڈھول سہانے رے
بام سے جھانک، کبھی چلمنِ ایّام سے دِکھ
چاندنی رات کی چھدرائی سپیدی سے جھلک
یا اماوس میں ہیولوں کی طرح مجھ تک آ
حاضری دُکھ میں کبھی دے کے خُوشی میں چھُپ جا
کبھی ہنستے ہوئے مِل، غم میں میسر مت ہو
فاصلہ رکھ کہ یہ قُربت کے لیے لازم ہے
بَین کرتی ہوئی زندگی
گھر کی بُنیاد ایسے ہِلی، چھت گِری
یوں پلستر اُکھڑ کر زمیں پر گِرا
وہ جو دِیوار تھے
آج اینٹوں کی مانند کوئی کہیں
اور کوئی کہیں
میرا دل، چیختے رہنے والا یہ دل