Wednesday, 1 April 2026

لہر اٹھتی ہے طوفان بنتی نہیں

 بنجر رُت کے گیت


لہر اٹھتی ہے طوفان بنتی نہیں

آگ جلتی ہے، دامن پکڑتی تو ہے

پر جلاتی نہیں

اس لیے آج کل دل کو بھاتی نہیں 

ہجر کی تپ بھی سرما کی بس دھوپ سی

 درد سہلاتی ہے

دل جکڑتی نہیں

وصل کا راگ دیپک تو ہوتا نہیں

نرم سی اک ٭اگن، ایک میٹھی جلن

کچھ بھی ویسا نہیں

جیسے ہونے پہ سینے میں ٭اگنی جلے

جیسے ہونے سے سانسیں بھی رک رک چلیں

سانس کی ڈور میں کوئی اٹکن نہیں

تم نہیں ہو تو کیا

اور ہو بھی تو کیا

بارش ہجر ہو، وصل کی دلکشیں لہر ہو

دل مچلتا نہیں

میری دہلیز تک نظم آ جاتی ہے

پر مِرے گھر میں ٭٭پرویش کرتی نہہیں

کوئی خواہش مِرے گوشۂ چشم کو اب بھگوتی نہیں

اب میں روتی نہیں


فاخرہ نورین

٭اگن، اگنی: آگ

٭٭پرویش: داخلہ، رسائی

No comments:

Post a Comment