عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ادھورا لوٹ کے آنا پڑا مدینے سے
نہ ساتھ آیا مِرے دل مِرا مدینے سے
وہاں قیام سخاوت کے تاجدار کا ہے
ملے گا سب کو طلب سے سوا مدینے سے
عظیم خلق پہ فائز مرے رسولِ کریمﷺ
پھر ایک بار ہو لطف و عطا مدینے سے
پھر اپنے آپ بڑھے گا خدا کا فضل و کرم
تُو پہلے اپنا تعلّق بڑھا مدینے سے
درودﷺ ان پہ مسلسل لٹاتے رہیے گا
بلاوہ لائے گی اک دن صبا مدینے سے
اسی نے روکی ہے باطل کی تیز رفتاری
وہ سوئے دشت جو لشکر چلا مدینے سے
وہ ساتھ لائی ہے اک اور نعت کا تحفہ
گزر کے آئی جو فکرِ رسا مدینے سے
کبھی کبھی تو میں ایسے چہکنے لگتا ہوں
کہ جیسے مجھ کو پکارا گیا مدینے سے
ہے آقاﷺ ہند میں بیمار آپ کا تنویر
سو بھیج دیجے دوا و شفا مدینے سے
تنویر جمال عثمانی
No comments:
Post a Comment