اشک لہجے میں چھلک کر جو دعا کرتے ہیں
ان کی تکریم سدا،۔ بابِ رسا کرتے ہیں
کوئی محفل نہیں قندیلِ نوا سے روشن
یوں تو صحرا میں بگولے بھی صدا کرتے ہیں
ہے نگارانِ ستم سے مجھے نسبت ایسی
زخم خوشرنگ مِرے تن کی قبا کرتے ہیں
شاہراہیں ہی نہیں، ان کی بقاء کی ضامن
حادثے اب تو گھروں میں بھی ہوا کرتے ہیں
زرد موسم میں ظفر ہے ہمیں پھولوں کی تلاش
تپتے صحرا سے طلب، بادِ صبا کرتے ہیں
ظفر مرادآبادی
No comments:
Post a Comment