Tuesday, 14 April 2026

بغیر مطلب کے مہربانی نہیں چلے گی

 بغیر مطلب کے مہربانی نہیں چلے گی

غریب لوگوں میں بد گمانی نہیں چلے گی

یہاں پہ کوئی وفا کی باتیں نہیں کرے گا

ہماری محفل میں بد زبانی نہیں چلے گی

اب اپنے  لہجے میں شعر کہنے پڑیں گے سب کو

پرائے لہجوں کی ترجمانی نہیں چلے گی

تمہیں محمدﷺ سے ہے محبّت یہ سچ ہے لیکن 

شراب پی کر کے نعت خوانی نہیں چلے گی

بغیر ماں باپ کے نہیں جی سکیں گے بچے

بغیر سانسوں کے زندگانی نہیں چلے گی

ذرا ادب سے بزرگ لوگوں سے بات کیجیے

زیادہ دن تک یہ نوجوانی نہیں چلے گی 

اداس لوگوں کو کون ہنسنا سکھا رہا ہے؟

خزاں کے موسم میں باغبانی نہیں چلے گی

اگر سلیقہ پتہ ہو تم کو‌ تو عشق کرنا

بغیر موسم کے شیروانی نہیں چلے گی

یہاں کی چھوڑو عبید احمد وہاں کی سوچو

بروز محشر کوئی کہانی نہیں چلے گی


عبید نجیب آبادی

No comments:

Post a Comment