بغیر مطلب کے مہربانی نہیں چلے گی
غریب لوگوں میں بد گمانی نہیں چلے گی
یہاں پہ کوئی وفا کی باتیں نہیں کرے گا
ہماری محفل میں بد زبانی نہیں چلے گی
اب اپنے لہجے میں شعر کہنے پڑیں گے سب کو
پرائے لہجوں کی ترجمانی نہیں چلے گی
تمہیں محمدﷺ سے ہے محبّت یہ سچ ہے لیکن
شراب پی کر کے نعت خوانی نہیں چلے گی
بغیر ماں باپ کے نہیں جی سکیں گے بچے
بغیر سانسوں کے زندگانی نہیں چلے گی
ذرا ادب سے بزرگ لوگوں سے بات کیجیے
زیادہ دن تک یہ نوجوانی نہیں چلے گی
اداس لوگوں کو کون ہنسنا سکھا رہا ہے؟
خزاں کے موسم میں باغبانی نہیں چلے گی
اگر سلیقہ پتہ ہو تم کو تو عشق کرنا
بغیر موسم کے شیروانی نہیں چلے گی
یہاں کی چھوڑو عبید احمد وہاں کی سوچو
بروز محشر کوئی کہانی نہیں چلے گی
عبید نجیب آبادی
No comments:
Post a Comment