Tuesday, 7 April 2026

پھینکا ہے بن میں جن کو مقدر نے مار کے

 بیٹھے ہوئے ہیں دشت میں قسمت سے ہار کے

پھینکا ہے بن میں جن کو مقدر نے مار کے

دیتے ہیں مفت کے تو سبھی مشورے مگر

آتا نہیں یے کام کوئی یار، یار کے

اُمید اُن سے دل نے لگائی ہے خیر کی

وعدے نبھائے جا نہ سکے جن سے پیار کے

بیٹی کی آبرو ہے، وڈیرا ہے، لوگ ہیں

رکھی زمیں پہ باپ نے پگڑی اُتار کے

جو آدمی کے بس میں نہیں ہیں، حقیقتاً

وہ سارے کام کاج ہیں پروردگار کے

آخر بچایا دینِ خُدا کو حسینؑ نے

دیکھا خُدا نے سارے صحیفے اُتار کے

سُنت بنا دیا ہے محمدﷺ نے جنگ میں

مُشکل کے وقت مولا علیؑ کو پُکار کے


عمار مہدی

No comments:

Post a Comment