بیٹھے ہوئے ہیں دشت میں قسمت سے ہار کے
پھینکا ہے بن میں جن کو مقدر نے مار کے
دیتے ہیں مفت کے تو سبھی مشورے مگر
آتا نہیں یے کام کوئی یار، یار کے
اُمید اُن سے دل نے لگائی ہے خیر کی
وعدے نبھائے جا نہ سکے جن سے پیار کے
بیٹی کی آبرو ہے، وڈیرا ہے، لوگ ہیں
رکھی زمیں پہ باپ نے پگڑی اُتار کے
جو آدمی کے بس میں نہیں ہیں، حقیقتاً
وہ سارے کام کاج ہیں پروردگار کے
آخر بچایا دینِ خُدا کو حسینؑ نے
دیکھا خُدا نے سارے صحیفے اُتار کے
سُنت بنا دیا ہے محمدﷺ نے جنگ میں
مُشکل کے وقت مولا علیؑ کو پُکار کے
عمار مہدی
No comments:
Post a Comment