Friday, 3 April 2026

ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن رحمت محمد کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن رحمت محمدﷺ کی

ہمارے دل میں ہے جلوہ کناں صورت محمدﷺ کی

گوارا ہی نہیں عشاق کو فرقت محمدﷺ کی

رہے دونوں جہاں میں یا خدا قربت محمدﷺ کی

زہے قسمت اشارا پا کے ان کی چشم رحمت کا

غلاموں کو لبھا کر لے چلی جنت محمدﷺ کی

نبیﷺ کے نام لیوا آنے والے ہیں تھکے ہارے

سجائی جاتی ہے اس واسطے جنت محمدﷺ کی

گنہگارو نہ گھبراؤ،۔ سیہ کارو نہ شرماؤ

وہ آئی مجرموں کو ڈھونڈتی رحمت محمدﷺ کی

اغثنی یا رسول اللہﷺ کے نعرے ہیں محشر میں

رفعنا کہہ رہا ہے دیکھ لو رحمت محمدﷺ کی

فدا جانِ جہاں فکر دو عالم اور اکیلا دم

اسے کہتے ہیں چاہت اور یہ ہے ہمت محمدﷺ کی

ملائک روکتے ہیں اس لیے اوروں کو جنت سے

کہ لائی جائے پہلے خلد میں امت محمدﷺ کی

عرب والا چلا ہے بخشوانے اپنی امت کو

مچی ہے سارے خاص و عام میں شہرت محمدﷺ کی

کسے معلوم ہے وہ جانیں یا ان کا خدا جانے

جو ہے درگاہِ حق میں عزت و وقعت محمدﷺ کی

علوم اولیں و آخریں کا کر دیا مالک

خدا نے دھوم سے کی عرش پر دعوت محمدﷺ کی

رسائی ہو نہیں سکتی وہاں تک عقل عالم کی

حضور حق ہے جتنی منزلت وقعت محمدﷺ کی

اشارے سے قمر کے دو کئے سورج کو لوٹایا

زمانے میں ہے اشہر طاقت و قدرت محمدﷺ کی

بتاتا ہے یہ فرمانِ ہُوَالْمعطی اَنَا قَاسِمْ

بٹے گی حشر تک کونین میں نعمت محمدﷺ کی

فقیرو بینواؤ مانگ لو جو کچھ ضرورت ہو

جھڑکنا پھیرنا خالی نہیں عادت محمدﷺ کی

ازل میں نعتیں تقسیم کیں جب حق تعالیٰ نے

لکھی جبریل کی تقدیر میں خدمت محمدﷺ کی

فرشتو قبر میں اپنی سند ہمراہ لایا ہوں

یہ دیکھو دل کے آئینہ میں ہے صورت محمدﷺ کی

فدا کیونکر نہ ہو جانِ جہاں اس سبز گنبد پر

کہ اس میں ہے سجی پیاری دلہن تربت محمدﷺ کی

ہزاروں قدسیوں کی بھیڑ ہے روضے کی جالی پر

ہزاروں آر ہے ہیں چومنے تربت محمدﷺ کی

اجل جلدی نہ کر اتنی مدینے آ ہی پہنچے ہیں

خدارا دیکھ لینے دے ہمیں تربت محمدﷺ کی

خلاف اہل سنت سیکڑوں مذہب ہوئے پیدا

مگر غالب ہے سب ادیان پر ملت محمدﷺ کی

ابو جہلی کہے بدعت و لیکن ذکر مولد سے

دلوں میں عاشقوں کے بڑھتی ہے الفت محمدﷺ کی

اسے بدعت سمجھتا ہے تو کیوں آتا ہے محفل میں

ہمیں تو کھینچ لائی ہے یہاں الفت محمدﷺ کی

قیامت ذکر مولد میں کھڑے ہوتے ہیں منکر بھی

یہ ہے اس ذکر کی رفعت یہ ہے شوکت محمدﷺ کی

جمیل قادری رضوی تجھے کیوں خوفِ محشر ہو

کہ تیرے دل کے آئینے میں ہے صورت محمدﷺ کی


جمیل رضوی قادری

No comments:

Post a Comment