تھل کی بے مہر مسافت میں وہ ٹھنڈی چھاؤں جیسا ہے
اس کی یادوں کا زادِ سفر ماؤں کی دعاؤں جیسا ہے
اک خواب گٗلاب زمانوں کا اس نقشے پر نقش ہوا
اس کی خُوشبو سے اب عالم مخمور فضاؤں جیسا ہے
اس نے ہی بصیرت بخشی تھی بے نُور بصارت کو آ کر
اب اس سے بچھڑ کر آنکھ نگر اُجڑے ہوئے گاؤں جیسا ہے
اک ہم کہ بازو کٹوا کر شاداں فرحاں سے پھرتے ہیں
اک وہ ہے کہ اب اس کا چہرہ دلگیر صداؤں جیسا ہے
وہ ساتھ رہا تو ہر موسم فیروز گُلابوں جیسا تھا
اور دُور ہوا تو ہر رُت کا کردار خزاؤں جیسا ہے
فیروز شاہ
No comments:
Post a Comment