روشن ہی رہا دل بھی مِرا شعلۂ شک سے
پیغام رساں رات بھی اترا نہ فلک سے
کچھ لطف لیا جائے نہ ملنے کی کسک سے
زخموں کو ملے حرفِ تسلی بھی نمک سے
چپ چاپ گزر جاتی ہے اب رات یوں مجھ میں
جیسے میں گزر جاتا ہوں سنسان سڑک سے
اعلان کیا ہر سو یہ بارش نے برس کر
رشتہ نہیں ٹوٹا ابھی مٹی کا مہک سے
وہ رنگِ یقیں ٹوٹ کے بکھرا مِرے اندر
پہچان لیا جاتا ہوں میں اپنی چمک سے
وہ دشمنِ جاں سامنے آ جائے گا لیکن
تلوار گرا دوں گا میں فوراً ہی جھجک سے
شاید کہ وہاں مجھ سے ملاقات ہو میری
اک روز مجھے جانا ہے گھر تیری سڑک سے
ابھرے جو کبھی عکس کسی شام کا ان میں
آنکھوں میں چھپا لیتا ہوں وہ رنگ پلک سے
عبداللہ حیدر بٹ
No comments:
Post a Comment