Friday, 17 April 2026

وہ جو پتھر ہیں وہی شیشوں سے وابستہ رہیں

 وہ جو پتھر ہیں وہی شیشوں سے وابستہ رہیں

ہم کہاں تک ٹوٹتے رشتوں سے وابستہ رہیں

آپ دہراتے رہیں سچی کتابوں کا کہا

اور لکیریں ان گنت چہروں سے وابستہ رہیں

رات دن جن کے لبوں پر روح کا پرچا رہے

ان کے دل میں ہے نئے جسموں سے وابستہ رہیں

اب ابھرتے جائے ہیں ہر ہر طرف منظر نئے

کیوں نگاہیں آپ کے کتبوں سے وابستہ رہیں

حال و ماضی کا تعلق ٹھیک رکھنا ہے اگر

کل کے بچے آج کے بچوں سے وابستہ رہیں

آپ تعبیروں کی عصمت لوٹتے رہیے حضور

اور مری آنکھیں یونہی خوابوں سے وابستہ رہیں

دائروں کی قید سے باہر نکلنے کے لیے

یہ ضروری ہے کئی نسلوں سے وابستہ رہیں


عابد اختر

No comments:

Post a Comment