وہ جو پتھر ہیں وہی شیشوں سے وابستہ رہیں
ہم کہاں تک ٹوٹتے رشتوں سے وابستہ رہیں
آپ دہراتے رہیں سچی کتابوں کا کہا
اور لکیریں ان گنت چہروں سے وابستہ رہیں
رات دن جن کے لبوں پر روح کا پرچا رہے
ان کے دل میں ہے نئے جسموں سے وابستہ رہیں
اب ابھرتے جائے ہیں ہر ہر طرف منظر نئے
کیوں نگاہیں آپ کے کتبوں سے وابستہ رہیں
حال و ماضی کا تعلق ٹھیک رکھنا ہے اگر
کل کے بچے آج کے بچوں سے وابستہ رہیں
آپ تعبیروں کی عصمت لوٹتے رہیے حضور
اور مری آنکھیں یونہی خوابوں سے وابستہ رہیں
دائروں کی قید سے باہر نکلنے کے لیے
یہ ضروری ہے کئی نسلوں سے وابستہ رہیں
عابد اختر
No comments:
Post a Comment