Showing posts with label اکرام قریشی. Show all posts
Showing posts with label اکرام قریشی. Show all posts

Thursday, 2 July 2026

اپنے حلیے بدل کے ملتے ہیں

 اپنے حُلیے بدل کے ملتے ہیں

آ کہیں اور چل کے ملتے ہیں

کیوں بہکنے کا احتمال رہے

یار تھوڑا سنبھل کے ملتے ہیں

اس کے اتنے قریب ہو کر بھی

رابطے چند پل کے ملتے ہیں

Tuesday, 1 July 2025

خدائے لا شریک و مصطفیٰ پہ شاعری لکھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خدائے لا شریک و مصطفیٰؐ پہ شاعری لکھی

علیؑ حسنؑ حسینؑ و فاطمہؑ پہ شاعری لکھی

یہ موضوعات سنیوں میں کم بیاں ہوئے جبھی

مباہلہ غدیرِ خُم کساء پہ شاعری لکھی

وفا شجاع عزم حق شہادتوں کی بات تھی

تو میں نے واقعۂ کربلا پہ شاعری لکھی

Thursday, 26 June 2025

ہم اہل بیت کا صدقہ ہی کھا رہے ہیں جناب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہم اہلِ بیت کا صدقہ ہی کھا رہے ہیں جناب

کرم خدا کا یہ اعزاز پا رہے ہیں جناب

کسی کو چاہیں کیوں دنیا میں پنجتن سے سوا

یہ آپ کون سا رستہ دکھا رہے ہیں جناب

حسنؑ، حسینؑ، علیؑ، فاطمہؑ، رسولِ خداﷺ

مباہلہ میں یہی پانچ جا رہے ہیں جناب

Tuesday, 24 June 2025

زندوں میں بھی شمار کے قابل نہیں رہے

 زندوں میں بھی شمار کے قابل نہیں رہے

جو تیرے اعتبار کے قابل نہیں رہے

عہدِ خزاں اجاڑ گیا اس قدر انہیں

یہ پیڑ اب بہار کے قابل نہیں رہے

اپنا ضمیر بیچ کے بھر لیں تجوریاں

غیرت پہ انحصار کے قابل نہیں رہے