اپنے حُلیے بدل کے ملتے ہیں
آ کہیں اور چل کے ملتے ہیں
کیوں بہکنے کا احتمال رہے
یار تھوڑا سنبھل کے ملتے ہیں
اس کے اتنے قریب ہو کر بھی
رابطے چند پل کے ملتے ہیں
اپنے حُلیے بدل کے ملتے ہیں
آ کہیں اور چل کے ملتے ہیں
کیوں بہکنے کا احتمال رہے
یار تھوڑا سنبھل کے ملتے ہیں
اس کے اتنے قریب ہو کر بھی
رابطے چند پل کے ملتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدائے لا شریک و مصطفیٰؐ پہ شاعری لکھی
علیؑ حسنؑ حسینؑ و فاطمہؑ پہ شاعری لکھی
یہ موضوعات سنیوں میں کم بیاں ہوئے جبھی
مباہلہ غدیرِ خُم کساء پہ شاعری لکھی
وفا شجاع عزم حق شہادتوں کی بات تھی
تو میں نے واقعۂ کربلا پہ شاعری لکھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہم اہلِ بیت کا صدقہ ہی کھا رہے ہیں جناب
کرم خدا کا یہ اعزاز پا رہے ہیں جناب
کسی کو چاہیں کیوں دنیا میں پنجتن سے سوا
یہ آپ کون سا رستہ دکھا رہے ہیں جناب
حسنؑ، حسینؑ، علیؑ، فاطمہؑ، رسولِ خداﷺ
مباہلہ میں یہی پانچ جا رہے ہیں جناب
زندوں میں بھی شمار کے قابل نہیں رہے
جو تیرے اعتبار کے قابل نہیں رہے
عہدِ خزاں اجاڑ گیا اس قدر انہیں
یہ پیڑ اب بہار کے قابل نہیں رہے
اپنا ضمیر بیچ کے بھر لیں تجوریاں
غیرت پہ انحصار کے قابل نہیں رہے