Showing posts with label ناہید ورک. Show all posts
Showing posts with label ناہید ورک. Show all posts

Thursday, 11 January 2024

دل میں کھلا ہوا جو گلستان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل میں کِھلا ہوا جو گُلستانِ نعت ہے

لفظوں پہ دم بہ دم مِرے بارانِ نعت ہے

لب پہ درود، عشقِ نبیؐ دل میں موجزن

آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے

ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ

جا کے خُدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے

Tuesday, 25 April 2023

پرانا دوست تھا دستک نئی تھی

 پرانا دوست تھا دستک نئی تھی

مِری دہلیز پر خوشبو رکھی تھی

کوئی تو بات اس کی مان لیتی

محبت عمر میں مجھ سے بڑی تھی

مِری آنکھوں پہ اس کا ہاتھ تھا اور

ہتھیلی پر سمندر کی نمی تھی

Saturday, 24 September 2022

سردار کائنات ہی سلطان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سردارِ کائناتﷺ ہی سلطانِ نعت ہے

پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے

بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضورؐ

پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے

کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے

محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے

Friday, 23 September 2022

سبز ہے نور بھی حصار بھی سبز

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سبز ہے نور بھی حِصار بھی سبز

آپﷺ کے شہر کا غبار بھی سبز

معجزہ ہے یہ آپﷺ کی ضَو کا 

ہو گیا سارا ریگزار بھی سبز

شوقِ دیدارﷺ میں مہکتے ہوئے

پھول تو پھول، سارے خار بھی سبز

Thursday, 28 April 2022

رہنا تھا مجھ کو تیری نظر کے کمال میں

 رہنا تھا مجھ کو تیری نظر کے کمال میں

لیکن میں دن گزار رہی ہوں زوال میں

گھیرا ہے اس طرح مجھے وحشت کے جال نے

سب خواب میرے ڈوب گئے اس ملال میں

مجھ سے نظر چُرا کے گزرنے لگی ہوا

آنے لگی جو ہجر کی خوشبو وصال میں

Wednesday, 27 April 2022

کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا مرے درویش

 کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا، مِرے درویش 

تجھے ہوئی ہے فقیری عطا، مرے درویش 

میں دل سے کہہ رہی تھی؛ باز آ محبت سے

وہ ہاتھ جوڑے ہوئے رو پڑا، مرے درویش 

مِری خطا تو بس اتنی ہے اس تعلق میں

یہی کہ ہونی کو ہونے دیا، مرے درویش 

Friday, 25 March 2022

یہ مرے عشق کا دائرہ صاحبا

 یہ مِرے عشق کا دائرہ صاحبا

ہے تِرے گرد ہی گھومتا صاحبا

تیری آواز سے یوں ہری ہو گئی

جیسے مجھ میں ہو  سورج اُگا، صاحبا

اپنا ہونا مجھے راس آیا نہیں

پھر مجھے تیرا ہونا پڑا، صاحبا

Monday, 7 March 2022

دل بصیرت راز ہے

 دل بصیرت، راز ہے

یہ حقیقت راز ہے

وہ ضروری تھا مگر

رب کی حکمت راز ہے

قیمتی پتھر ہے وہ

اس کی قیمت راز ہے

Friday, 8 October 2021

غم رسیدہ روح کی زنجیر گر تم توڑ بھی ڈالو

 اے طلب زاد


غم رسیدہ روح کی زنجیر

گر تم توڑ بھی ڈالو

مِری چُپ کے قُفل

گر کھول بھی ڈالو

تو آنکھوں کی نمی جو

میری سانسوں میں جمی ہے

Tuesday, 18 May 2021

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ

کیوں ٹھہر گئی دل میں اس قیام کی آہٹ

کیوں گزر نہیں جاتی اس مقام کی آہٹ

ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں

تیری یاد کے موسم تیرے نام کی آہٹ

Wednesday, 6 January 2021

ایسی سر تال تان بیٹھے ہیں

 ایسی سُر تال، تان بیٹھے ہیں

چھوڑ کر آن بان بیٹھے ہیں

میری آنکھوں میں دیکھ میرے فقیر

تیرے مجذوب دھیان بیٹھے ہیں

اے مِرے سبز لہجے والے سُن

دل میں تیرے نشان بیٹھے ہیں

Wednesday, 21 October 2020

پہلے ست رنگ خواب بنتا ہے

 پہلے ست رنگ خواب بنتا ہے

عشق پھر اضطراب بنتا ہے

تُو مِرا وقت کھا گیا سارا

میرا تجھ سے حساب بنتا ہے

سچ بتا اس مقام پر مجھ سے

کیا تِرا اجتناب بنتا ہے؟

Saturday, 3 October 2020

وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں

 وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں

یعنی اس کو ملال تھا ہی نہیں

سرمئی ہجر کو ہرا کرتا

اس میں ایسا کمال تھا ہی نہیں

میرے تو پاؤں پڑ گیا اک دن

جس سفر میں وصال تھا ہی نہیں

Wednesday, 12 August 2020

ضبط ہونٹوں پہ آ گیا تو پھر

ضبط ہونٹوں پہ آ گیا تو پھر
تیرا سب حوصلہ گیا تو پھر
سالہا سال 📅 کا اکیلا پن
تجھ کو اندر سے کھا گیا تو پھر
ہر طرف یہ سفید سونا پن
منظروں کو جلا گیا تو پھر

ہوئی ہیں گویا گلاب آنکھیں

ہوئی ہیں گویا گلاب🌹 آنکھیں
ہیں مانگیں مجھ سے حساب آنکھیں
ہیں دھانی جذبوں کی تانے چادر
بسی ہیں مجھ میں جو خواب آنکھیں
روانئ بحر بھول جاؤ
جو دیکھ لو یہ چناب آنکھیں

Friday, 29 December 2017

دھیمے رنگوں کی دھوپ جیسی ہے

دھیمے رنگوں کی، دھوپ جیسی ہے
وہ ہنسی، کچی دھوپ جیسی ہے
رنگ آنکھوں کے ہو گئے گہرے
شام بھی، پکی دھوپ جیسی ہے
میں فقط، عکسِ آبِ آئینہ ہوں
یعنی، چمکیلی دھوپ جیسی ہے

کیا امید آس ٹوٹنے تک تھی

کیا امید، آس ٹوٹنے تک تھی
کیا مِری ہار ماننے تک تھی
کیا تِرا ہجر، ہجر ہی رہے گا
کیا تِری خوشبو سوچنے تک تھی
کیا مِری چپ سمجھ نہیں پائے
کیا ہر اک بات بولنے تک تھی

پہلے تو اس نے خود میں کیا مبتلا مجھے

پہلے تو اس نے خود میں کیا مبتلا مجھے
مجھ سے ہی رفتہ رفتہ کیا پھر جدا مجھے
آنکھوں میں رکھ رکھاؤ تو پہلے سا تھا مگر
لہجے کی سلوٹوں سے لگا دوسرا مجھے
جب تک انا تھی مجھ میں محبت نہیں ہوئی
خود کو فنا کیا تو ملا راستہ مجھے

جالے بنتی ہوئی مکڑی نہیں دیکھی جاتی

جالے بُنتی ہوئی مکڑی نہیں دیکھی جاتی
ماں، ترے گھر کی اداسی نہیں دیکھی جاتی
تجھ سلیقے سے ہر اک کونہ چمک اٹھتا تھا
صحن میں اب جمی کائی نہیں دیکھی جاتی
کس طرح تجھ کو بتاؤں، ترے ہونے کی کمی
گھر کے ہر طاق میں بیٹھی نہیں دیکھی جاتی

Thursday, 7 January 2016

پچھلی رت کے شوخ زمانے یاد آئے

پچھلی رت کے شوخ زمانے یاد آئے
دل میں چبھتے خار سہانے یاد آئے
آج پھر ہم کو تیرا ملنا یاد آیا
آج پھر کیا کیا نہ فسانے یاد آئے
شوخ ہوا کے آنچل میں تھم تھم کر
شام سے ہی درد پرانے یاد آئے