عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل میں کِھلا ہوا جو گُلستانِ نعت ہے
لفظوں پہ دم بہ دم مِرے بارانِ نعت ہے
لب پہ درود، عشقِ نبیؐ دل میں موجزن
آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ
جا کے خُدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل میں کِھلا ہوا جو گُلستانِ نعت ہے
لفظوں پہ دم بہ دم مِرے بارانِ نعت ہے
لب پہ درود، عشقِ نبیؐ دل میں موجزن
آ دیکھ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے
ہم سے بیاں نہ ہو سکے گی جانتے ہیں آپ
جا کے خُدا سے پوچھیے کیا شانِ نعت ہے
پرانا دوست تھا دستک نئی تھی
مِری دہلیز پر خوشبو رکھی تھی
کوئی تو بات اس کی مان لیتی
محبت عمر میں مجھ سے بڑی تھی
مِری آنکھوں پہ اس کا ہاتھ تھا اور
ہتھیلی پر سمندر کی نمی تھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سردارِ کائناتﷺ ہی سلطانِ نعت ہے
پڑھ لو درودِ عشق یہی جانِ نعت ہے
بادل کا ٹکڑا سایہ کرے مجھ پہ بھی حضورؐ
پھر میں بھی کہہ سکوں گی یہ فیضانِ نعت ہے
کیا حقِ بندگی ہو ادا ان حروف سے
محبوب کی ثنا میں تو قرآنِ نعت ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
سبز ہے نور بھی حِصار بھی سبز
آپﷺ کے شہر کا غبار بھی سبز
معجزہ ہے یہ آپﷺ کی ضَو کا
ہو گیا سارا ریگزار بھی سبز
شوقِ دیدارﷺ میں مہکتے ہوئے
پھول تو پھول، سارے خار بھی سبز
رہنا تھا مجھ کو تیری نظر کے کمال میں
لیکن میں دن گزار رہی ہوں زوال میں
گھیرا ہے اس طرح مجھے وحشت کے جال نے
سب خواب میرے ڈوب گئے اس ملال میں
مجھ سے نظر چُرا کے گزرنے لگی ہوا
آنے لگی جو ہجر کی خوشبو وصال میں
کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا، مِرے درویش
تجھے ہوئی ہے فقیری عطا، مرے درویش
میں دل سے کہہ رہی تھی؛ باز آ محبت سے
وہ ہاتھ جوڑے ہوئے رو پڑا، مرے درویش
مِری خطا تو بس اتنی ہے اس تعلق میں
یہی کہ ہونی کو ہونے دیا، مرے درویش
یہ مِرے عشق کا دائرہ صاحبا
ہے تِرے گرد ہی گھومتا صاحبا
تیری آواز سے یوں ہری ہو گئی
جیسے مجھ میں ہو سورج اُگا، صاحبا
اپنا ہونا مجھے راس آیا نہیں
پھر مجھے تیرا ہونا پڑا، صاحبا
دل بصیرت، راز ہے
یہ حقیقت راز ہے
وہ ضروری تھا مگر
رب کی حکمت راز ہے
قیمتی پتھر ہے وہ
اس کی قیمت راز ہے
اے طلب زاد
غم رسیدہ روح کی زنجیر
گر تم توڑ بھی ڈالو
مِری چُپ کے قُفل
گر کھول بھی ڈالو
تو آنکھوں کی نمی جو
میری سانسوں میں جمی ہے
تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ
کیوں ٹھہر گئی دل میں اس قیام کی آہٹ
کیوں گزر نہیں جاتی اس مقام کی آہٹ
ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں
تیری یاد کے موسم تیرے نام کی آہٹ
ایسی سُر تال، تان بیٹھے ہیں
چھوڑ کر آن بان بیٹھے ہیں
میری آنکھوں میں دیکھ میرے فقیر
تیرے مجذوب دھیان بیٹھے ہیں
اے مِرے سبز لہجے والے سُن
دل میں تیرے نشان بیٹھے ہیں
پہلے ست رنگ خواب بنتا ہے
عشق پھر اضطراب بنتا ہے
تُو مِرا وقت کھا گیا سارا
میرا تجھ سے حساب بنتا ہے
سچ بتا اس مقام پر مجھ سے
کیا تِرا اجتناب بنتا ہے؟
وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں
یعنی اس کو ملال تھا ہی نہیں
سرمئی ہجر کو ہرا کرتا
اس میں ایسا کمال تھا ہی نہیں
میرے تو پاؤں پڑ گیا اک دن
جس سفر میں وصال تھا ہی نہیں