Tuesday, 18 May 2021

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ

کیوں ٹھہر گئی دل میں اس قیام کی آہٹ

کیوں گزر نہیں جاتی اس مقام کی آہٹ

ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں

تیری یاد کے موسم تیرے نام کی آہٹ

آنکھ میں مچلتی ہے روح میں تڑپتی ہے

اس پیام کی آواز اس قیام کی آہٹ

جب یہ دل رفاقت کی کچی نیند سے جاگا

ہر طرف سنائی دی اختتام کی آہٹ

فرقتوں کے بوسیدہ ساحلوں پہ اُتری تو

ہر طرف تھی بس تیرے صبح و شام کی آہٹ

رات کے اُترتے ہی دل کی سُونی گلیوں میں

جاگ اُٹھتی ہے پھر سے تیرے نام کی آہٹ

بیٹھ جاتی ہے آ کر در پہ کیوں مِرے ناہید

تیرے ساتھ کی خوشبو، تیرے گام کی آہٹ​


ناہید ورک

No comments:

Post a Comment