Showing posts with label رضیہ حلیم جنگ​. Show all posts
Showing posts with label رضیہ حلیم جنگ​. Show all posts

Friday, 3 December 2021

تمہیں بتاؤ وہ کون ہے جو ہر ایک لمحہ ستا رہا ہے

 تمہیں بتاؤ، وہ کون ہے جو ہر ایک لمحہ ستا رہا ہے؟

نہ نیند راتوں کو آ رہی ہے نہ چین دن کو ہی آ رہا ہے

یہ اشک دامن بھگو رہے ہیں یہ آنکھیں سُوجی ہوئی ہیں میری

میں ایک جلوے کی اس کے طالب مگر وہ پردے گرا رہا ہے

طوافِ کعبہ کو دیکھ تو لے، تڑپ رہا ہے وجود میرا

نہ پاؤں اب میرے اٹھ رہے ہیں نہ سامنے گھر وہ آ رہا ہے

Tuesday, 30 November 2021

بیاباں ہو کہ صحرا ہو مجھے تیرا سہارا ہو

 بیاباں ہو کہ صحرا ہو مجھے تیرا سہارا ہو 

تُو ہی خورشید ہو میرا تُو ہی میرا ستارا ہو 

بلندی ہو کہ پستی ہو کہیں بیٹھوں کہیں جاؤں 

وہیں پر میرا کعبہ ہو،۔ وہیں تیرا نظارا ہو 

نہ یہ دنیا نہ وہ عقبیٰ مِری تو اک تمنا ہے 

رہوں قدموں تلے تیرے تُو ہی میرا کنارہ ہو 

Wednesday, 24 November 2021

دل کی حالت بگڑ رہی ہے کیوں

 دل کی حالت بگڑ رہی ہے کیوں

ہر نفس مجھ کو بے کلی ہے کیوں

دل لگاتا ہے بس صدا تیری

بے قراری یہ بڑھ رہی ہے کیوں

اس کے کوچے میں عمر گزری پھر

کوچۂ یار اجنبی ہے کیوں

Tuesday, 23 November 2021

دامن بھی چاک اور گریباں بھی تار تار

 دامن بھی چاک اور گریباں بھی تار تار​

دل ٹکڑے ہو کے دیکھیۓ روتا ہے زار زار​

کاندھے بھی جھک گئے ہیں گناہوں کے بوجھ سے​

لرزاں ہوں ہر قدم پہ میں گرتی ہوں بار بار​

ایماں کو کر قوی مِرے قربت بھی اپنی دے​

مجھ کو پناہ دے تِری رحمت کے میں نثار

Sunday, 21 November 2021

کتنے نایاب تھے لمحے جو وہاں پر گزرے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کتنے نایاب تھے لمحے جو وہاں پر گزرے

جب اٹھے ہاتھ دعاؤں کو تو گوہر برسے

تک رہے تھے تِرے گھر کو وہ سماں بھی کیا تھا

تو گزرتا ہے ہوا آئی تو ہم یہ سمجھے

کتنی ہی بار کیا ہم نے تو زمزم سے وضو

کتنی ہی بار تِری یاد میں آنسو چھلکے