تمہیں بتاؤ، وہ کون ہے جو ہر ایک لمحہ ستا رہا ہے؟
نہ نیند راتوں کو آ رہی ہے نہ چین دن کو ہی آ رہا ہے
یہ اشک دامن بھگو رہے ہیں یہ آنکھیں سُوجی ہوئی ہیں میری
میں ایک جلوے کی اس کے طالب مگر وہ پردے گرا رہا ہے
طوافِ کعبہ کو دیکھ تو لے، تڑپ رہا ہے وجود میرا
نہ پاؤں اب میرے اٹھ رہے ہیں نہ سامنے گھر وہ آ رہا ہے