مُصیبت تم پر آ جائے تو رب سے گُفتگو کرنا
کوئی نُِقصان پہنچائے تو رب سے گفتگو کرنا
ہو موسم قحط سالی کا یا بن موسم کی بارش ہو
یا بادل آگ برسائے تو رب سے گفتگو کرنا
نمازوں اور تلاوت میں تمہارا دل نہ لگتا ہو
تمہیں شیطان بہکائے تو رب سے گفتگو کرنا
یہ دُنیا ہے، یہاں تُم کو لِبادہ یار کا اوڑھے
غلط رہ کوئی دِکھلائے تو رب سے گفتگو کرنا
سکونِ دل چلا جائے، نہ نیندیں رات کو آئیں
بلا گر کوئی چھُو جائے تو رب سے گفتگو کرنا
جو بِیتے رات آنکھوں سے چُرا کر خواب اور نیندیں
کسی کی یاد تڑپائے تو رب سے گفتگو کرنا
تعلق جوڑنے والے سدا بننا، مگر کاظم
تعلق بوجھ بن جائے تو رب سے گفتگو کرنا
کاظم شیرازی
No comments:
Post a Comment