Saturday, 10 October 2026

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

 زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے 

سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر 

کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

ہے دعا یہی میری بد دعا سے بچ جاؤ 

آہ سرد بھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

دفعتاً سرک جانا چہرے سے نقاب اس کا 

چاند کے ابھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

پھول سی جوانی ہے شوخیاں نہیں اچھی 

پتیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

وہ نصیر میرا تھا آج رات سے پہلے 

رات کے گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے


نصیر بلوچ

No comments:

Post a Comment