عشق محتاط رہا وہ بھی اس انداز کے ساتھ
سانس تک اس نے نہیں لی کسی ہمراز کے ساتھ
دشمنوں میں بھی رہوں میں تو قباحت کیا ہے
دوست بھی ملتے ہیں مجھ سے اسی انداز کے ساتھ
اس کے تاروں پہ رکھیں انگلیاں تو نے شاید
کیف کو ایسا نہیں ربط کسی ساز کے ساتھ
عشق محتاط رہا وہ بھی اس انداز کے ساتھ
سانس تک اس نے نہیں لی کسی ہمراز کے ساتھ
دشمنوں میں بھی رہوں میں تو قباحت کیا ہے
دوست بھی ملتے ہیں مجھ سے اسی انداز کے ساتھ
اس کے تاروں پہ رکھیں انگلیاں تو نے شاید
کیف کو ایسا نہیں ربط کسی ساز کے ساتھ
دل میں یوں تیری یاد آئی ہے
جیسے دنیا یہیں سمائی ہے
عشق ہے تابِ دید سے محروم
حسن تو محوِ خود نمائی ہے
تجھ کو میں زندگی سمجھتا ہوں
اس لیے خوفِ بے وفائی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ستارہ میری قسمت کا ذرا دیکھو کہاں ٹھہرا
خدا ہے مدح خواں جس کا میں اُس کا مدح خواں ٹھہرا
وہ لمحہ جس میں تُو دریا سے پیاسا ہی نکل آیا
حیاتِ خضرؑ سے پوچھوں کہ وہ کتنا گراں ٹھہرا
تِری یادوں کے صدقے دل قریبِ عرش تھا کتنا
یہاں سے آہ اُٹھی اور وہاں جا کر دُھواں ٹھہرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے بلندی کا نشاں، نعلینِ اقدس آپﷺ کی
چومتا ہے آسماں، نعلینِ اقدس آپﷺ کی
اُس زمیں کو دیکھتے ہیں رشک سے اہل فلک
رکھی جاتی ہے جہاں، نعلینِ اقدس آپﷺ کی
کیوں نہ ہم چشمِ تصور سے کریں اس کا طواف
لوحِ دل پر ہے عیاں، نعلینِ اقدس آپﷺ کی
رازِ الفت کو عیاں پل میں یہ کر دیتی ہے
آنکھ ہونٹوں سے بھی پہلے یہ خبر دیتی ہے
شدتِ کرب میں آ جاتی ہے اشکوں سے کمی
دل کو راحت مِرے یہ دیدۂ تر دیتی ہے
گُل یہ کی جائے تو مطلب ہے کہ سورج اُبھرا
شمع بجھ کر بھی اجالوں کی خبر دیتی ہے
آزما لے، ابھی تعریفِ ہنر جانے دے
ناخدا کو، کسی طوفان سے گزر جانے دے
تیری فرقت میں، ہر اک سانس پہ موت آئے گی
اپنے ہی سامنے، بہتر ہے کہ مر جانے دے
تیرے کوچے سے پلٹنا نہیں، میرے بس میں
گرد بن کر، اسی کوچے میں بکھر جانے دے