Showing posts with label عظیم کامل. Show all posts
Showing posts with label عظیم کامل. Show all posts

Tuesday, 21 November 2023

بتا بے فیض لمحوں کا گزارا کس طرح ہو گا

 بتا! بے فیض لمحوں کا گزارا کس طرح ہو گا

وہ جب اپنا نہیں ہے تو ہمارا کس طرح ہو گا

وہ جتنا ماند پڑتا جا رہا ہے اپنی سوچوں میں

ہمارے لاکھ کہنے پر ستارہ کس طرح ہو گا

ابھی تو سادگی ڈستی ہے اُس کی کافی لوگوں کو

کہ جب وہ ٹھیک سے ہم نے سنوارا، کس طرح ہو گا

Tuesday, 14 November 2023

تڑپتے دل کو کافی ہے بس اتنا واہمہ رکھنا

 تڑپتے دل کو کافی ہے بس اتنا واہمہ رکھنا

بچھڑنے والا لوٹے گا ہمیشہ حوصلہ رکھنا

چلے جائیں گے ہم بھی دوستو دُنیائے فانی سے

فقط اتنی گُزارش ہے، دُعا کا سلسلہ رکھنا

کہ ہم بدبخت لوگوں میں بس اک یہ ہی بُرائی ہے

دُعائیں دیر سے لگتی ہیں جانی حوصلہ رکھنا

Saturday, 6 March 2021

یہ سنتے ہی خوشی سے ہم بھی پیچھے آ گئے ہیں

 یہ سنتے ہی خوشی سے ہم بھی پیچھے آ گئے ہیں

وہ صاف انداز میں سب کچھ ہمیں فرما گئے ہیں

سہولت سے کنارا کر کے کارِ خیر میں بھی

ستم سارے ہماری ذات پر وہ ڈھا گئے ہیں

اِک ایسا حادثہ در پیش آیا تھا یہاں پر

پرندے ہی نہیں اشجار بھی گھبرا گئے ہیں

Tuesday, 2 March 2021

خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے

 خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے

مِری تازہ غزل وہ یاد کر کے گنگناتی ہے

تمہیں سگریٹ سے نفرت ہے تو یہ کیوں بھول بیٹھے تم

تمہیں جس سے محبت ہے اسے سگریٹ بچاتی ہے

نہیں معلوم میرا حافظہ کس سمت رہتا ہے

مگر وہ یاد رکھتی ہے جنم دن تک مناتی ہے