بتا! بے فیض لمحوں کا گزارا کس طرح ہو گا
وہ جب اپنا نہیں ہے تو ہمارا کس طرح ہو گا
وہ جتنا ماند پڑتا جا رہا ہے اپنی سوچوں میں
ہمارے لاکھ کہنے پر ستارہ کس طرح ہو گا
ابھی تو سادگی ڈستی ہے اُس کی کافی لوگوں کو
کہ جب وہ ٹھیک سے ہم نے سنوارا، کس طرح ہو گا
بتا! بے فیض لمحوں کا گزارا کس طرح ہو گا
وہ جب اپنا نہیں ہے تو ہمارا کس طرح ہو گا
وہ جتنا ماند پڑتا جا رہا ہے اپنی سوچوں میں
ہمارے لاکھ کہنے پر ستارہ کس طرح ہو گا
ابھی تو سادگی ڈستی ہے اُس کی کافی لوگوں کو
کہ جب وہ ٹھیک سے ہم نے سنوارا، کس طرح ہو گا
تڑپتے دل کو کافی ہے بس اتنا واہمہ رکھنا
بچھڑنے والا لوٹے گا ہمیشہ حوصلہ رکھنا
چلے جائیں گے ہم بھی دوستو دُنیائے فانی سے
فقط اتنی گُزارش ہے، دُعا کا سلسلہ رکھنا
کہ ہم بدبخت لوگوں میں بس اک یہ ہی بُرائی ہے
دُعائیں دیر سے لگتی ہیں جانی حوصلہ رکھنا
یہ سنتے ہی خوشی سے ہم بھی پیچھے آ گئے ہیں
وہ صاف انداز میں سب کچھ ہمیں فرما گئے ہیں
سہولت سے کنارا کر کے کارِ خیر میں بھی
ستم سارے ہماری ذات پر وہ ڈھا گئے ہیں
اِک ایسا حادثہ در پیش آیا تھا یہاں پر
پرندے ہی نہیں اشجار بھی گھبرا گئے ہیں
خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے
مِری تازہ غزل وہ یاد کر کے گنگناتی ہے
تمہیں سگریٹ سے نفرت ہے تو یہ کیوں بھول بیٹھے تم
تمہیں جس سے محبت ہے اسے سگریٹ بچاتی ہے
نہیں معلوم میرا حافظہ کس سمت رہتا ہے
مگر وہ یاد رکھتی ہے جنم دن تک مناتی ہے