غم نہیں غیر کی ریائی کا
دکھ ہے اپنوں کی بے وفائی کا
عرشِ دل میں بسا لیا ان کو
ڈر نہیں اب مجھے جدائی کا
دل لگانے سے قبل سوچنا تھا
فائدہ کیا ہے اب دُہائی کا
غم نہیں غیر کی ریائی کا
دکھ ہے اپنوں کی بے وفائی کا
عرشِ دل میں بسا لیا ان کو
ڈر نہیں اب مجھے جدائی کا
دل لگانے سے قبل سوچنا تھا
فائدہ کیا ہے اب دُہائی کا
مجھے جستجو تِرے عشق کی، تِری قربتوں کا سوال ہے
نہیں عشق سے ابھی آشنا، مِرے دوستوں کا خیال ہے
مِرا خامہ اس کا گواہ ہے، مِری شاعری بھی دلیل ہے
مِری سانس ہے جو رواں دواں، تِری چاہتوں کا کمال ہے
تُو نگاہ سے مِری دور ہے، دل و جاں سے پھر بھی قریب ہے
یہ فراق ہے نہ وصال ہے، تِری شفقتوں کا یہ حال ہے
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے
جنوں کو تُو مِرے مولا! شکیبائی عطا کر دے
بنوں رہبر، دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو
مجھے وہ معرفت، ایماں، وہ مولائی عطا کر دے
مِری بے نام منزل کو نشانِ راہ دے دے تُو
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے
تم کو کیسے کہوں پھر میں آزادی مبارک
تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب
تم کو کیسے کہوں پھر میں آزادی مبارک
یہ تہذیب و ثقافت، کس کی ہے یہ عنایت
چاہے فکر و عمل ہو، یا ہو رسم و روایت
یہ غیروں کی غلامی، یہ اپنوں سے بغاوت
تُو نے سوچا کبھی تو، کیسی ہے یہ محبت
محبت سے حسیں تر اس جہاں میں اور کیا ہو گا
جو ہو گا، وہ محبت کے نہیں کچھ بھی سوا ہو گا
جہاں والے محبت کو فسانہ ہی سمجھتے ہیں
نہ جانے کب زمانے پر بھلا یہ راز وا ہو گا
جو ہیں اہلِ جنوں واقف ہیں اسرارِ محبت سے
بھلا اہلِ خرد پر راز کیوں کر یہ کھلا ہو گا
وہ خلوت میں جب سے ہیں آنے لگے
مزے ہم محبت کے پانے لگے
رہا یاد ہم کو نہ کچھ بھی نصر
سوا ان کے سب بھول جانے لگے
پلا کر ہمیں جامِ الفت وہ پھر
ترانے وفا کے سنانے لگے
رہا در بدر، پھرا کُو بکُو
رہی عمر بھر یہی آرزو
ملے مجھ کو بھی کوئی ہم نفس
کوئی مہ جبیں، کوئی خوبرو
نہ میں کہہ سکا مِرا حالِ دل
نہ ہی ہو سکی کوئی گفتگو
تجھ سے پہلی سی وفا کون کرے گا
بعد میرے یہ خطا کون کرے گا
کس پہ ہو گی تِری وہ مشقِ ستم اب
ظلم تیرے یوں سہا کون کرے گا
ترکِ الفت نہیں اچھی یہ تو سوچو
عہدِ الفت کو وفا کون کرے گا
تِری یاد دل سے مٹانے لگے
تجھے رفتہ رفتہ بُھلانے لگے
تمہارے بنا بھی ہیں جی سکتے ہم
زمانے کو اب یہ دِکھانے لگے
مقدر ہمارے ہوئے خواب پھر
جبھی تجھ کو دل میں بسانے لگے