Showing posts with label ذیشان نصر. Show all posts
Showing posts with label ذیشان نصر. Show all posts

Saturday, 18 June 2022

غم نہیں غیر کی ریائی کا

غم نہیں غیر کی ریائی کا

دکھ ہے اپنوں کی بے وفائی کا

عرشِ دل میں بسا لیا ان کو

ڈر نہیں اب مجھے جدائی کا

دل لگانے سے قبل سوچنا تھا

فائدہ کیا ہے اب دُہائی کا

Sunday, 1 May 2022

مجھے جستجو ترے عشق کی تری قربتوں کا سوال ہے

 مجھے جستجو تِرے عشق کی، تِری قربتوں کا سوال ہے

نہیں عشق سے ابھی آشنا، مِرے دوستوں کا خیال ہے

مِرا خامہ اس کا گواہ ہے، مِری شاعری بھی دلیل ہے

مِری سانس ہے جو رواں دواں، تِری چاہتوں کا کمال ہے

تُو نگاہ سے مِری دور ہے، دل و جاں سے پھر بھی قریب ہے

یہ فراق ہے نہ وصال ہے، تِری شفقتوں کا یہ حال ہے

Tuesday, 12 April 2022

الٰہی مجھ کو تو ذوق مسیحائی عطا کر دے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے

جنوں کو تُو مِرے مولا! شکیبائی عطا کر دے

بنوں رہبر، دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو

مجھے وہ معرفت، ایماں، وہ مولائی عطا کر دے

مِری بے نام منزل کو نشانِ راہ دے دے تُو

مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے

Friday, 13 August 2021

تم ہی کھولو ذرا لب آزادی ہے کہاں اب

 تم کو کیسے کہوں پھر میں آزادی مبارک


تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب

تم کو کیسے کہوں پھر میں آزادی مبارک

یہ تہذیب و ثقافت، کس کی ہے یہ عنایت

چاہے فکر و عمل ہو، یا ہو رسم و روایت

یہ غیروں کی غلامی، یہ اپنوں سے بغاوت

تُو نے سوچا کبھی تو، کیسی ہے یہ محبت

Thursday, 29 July 2021

محبت سے حسیں تر اس جہاں میں اور کیا ہو گا

 محبت سے حسیں تر اس جہاں میں اور کیا ہو گا

جو ہو گا، وہ محبت کے نہیں کچھ بھی سوا ہو گا

جہاں والے محبت کو فسانہ ہی سمجھتے ہیں

نہ جانے کب زمانے پر بھلا یہ راز وا ہو گا

جو ہیں اہلِ جنوں واقف ہیں اسرارِ محبت سے

بھلا اہلِ خرد پر راز کیوں کر یہ کھلا ہو گا

وہ خلوت میں جب سے ہیں آنے لگے

 وہ خلوت میں جب سے ہیں آنے لگے

مزے ہم محبت کے پانے لگے

رہا یاد ہم کو نہ کچھ بھی نصر

سوا ان کے سب بھول جانے لگے

پلا کر ہمیں جامِ الفت وہ پھر

ترانے وفا کے سنانے لگے

Wednesday, 28 July 2021

رہا دربدر پھرا کو بکو

 رہا در بدر، پھرا کُو بکُو

رہی عمر بھر یہی آرزو

ملے مجھ کو بھی کوئی ہم نفس

کوئی مہ جبیں، کوئی خوبرو

نہ میں کہہ سکا مِرا حالِ دل

نہ ہی ہو سکی کوئی گفتگو

Tuesday, 27 July 2021

تجھ سے پہلی سی وفا کون کرے گا

  تجھ سے پہلی سی وفا کون کرے گا

بعد میرے یہ خطا کون کرے گا

کس پہ ہو گی تِری وہ مشقِ ستم اب

ظلم تیرے یوں سہا کون کرے گا

ترکِ الفت نہیں اچھی یہ تو سوچو

عہدِ الفت کو وفا کون کرے گا

Tuesday, 20 April 2021

تری یاد دل سے مٹانے لگے

 تِری یاد دل سے مٹانے لگے

تجھے رفتہ رفتہ بُھلانے لگے

تمہارے بنا بھی ہیں جی سکتے ہم

زمانے کو اب یہ دِکھانے لگے

مقدر ہمارے ہوئے خواب پھر

جبھی تجھ کو دل میں بسانے لگے