عارفانہ کلام حمدیہ کلام
الٰہی مجھ کو تو ذوقِ مسیحائی عطا کر دے
جنوں کو تُو مِرے مولا! شکیبائی عطا کر دے
بنوں رہبر، دکھاؤں راہ میں گمراہ لوگوں کو
مجھے وہ معرفت، ایماں، وہ مولائی عطا کر دے
مِری بے نام منزل کو نشانِ راہ دے دے تُو
مجھے تو ذات سے اپنی شناسائی عطا کر دے
الٰہی سوچ سے میری، ہو روشن اک جہانِ نو
تخیل کو مِرے تُو ایسی گہرائی عطا کر دے
نِگہ میری اٹھے جس سمت، دنیا ہی بدل جائے
مِری بے نور آنکھوں کو، وہ بینائی عطا کر دے
معطر روح ہو جس سے، مسخر قلب ہو جس سے
زبان و نطق کو یا رب ،وہ گویائی عطا کر دے
زمن جس سے منور ہو، چمن جس سے معطر ہو
مِرے کردار کو مولا، وہ رعنائی عطا کر دے
خیالوں کو ملے تصویر اور تعبیر خوابوں کو
مِرے وجدان کو یا رب، وہ دانائی عطا کر دے
اگرچہ عجز سے ہوں میں تہی دامن، کرم سے تُو
مِرے بے ربط جملوں کو پذیرائی عطا کر دے
تِرے در پر ندامت سے، جھکی ہے پھر جبیں میری
تمنائے حزیں کو اب،۔ تُو شنوائی عطا کر دے
تِرا ہی نام ہو لب پر،۔ نہ ہو پھر دوسرا کوئی
نصر کو اب تو وہ خلوت، وہ تنہائی عطا کر دے
ذیشان نصر
No comments:
Post a Comment