کوئی سلیقہ ہے بندگی کا نہ کوئی وصف و کمال مولا
ہے میرے دامن میں بس خسارا نظرعنایت کی ڈال مولا
میں ایک نابینا شخص جیسی، وہ سُوجھتا ہے جو تُو سُجھائے
ہے تُو مجسّم جواب آقا! میں ہوں سراپا سوال مولا
ورق کو سادہ کِیا روانہ دُعائیں حرفوں میں ڈھل نہ پائیں
قبولیت کی لگا دے مہر اب، نہ میری عرضی کو ٹال مولا
مِری جبینِ نیاز کو جب، تمہاری چوکھٹ ہوئی میسر
تو ٹمٹمایا چراغِ اخضر، ہُوا ہے ربط اب بحال مولا
ضمیر نے ہے انا کو میری بلندیوں سے زمیں پہ پٹخا
کُھلا یہ مجھ پر کہ خُود نمائی کا ہے مقدر زوال مولا
نصیب جاگیں جو تُو نظر سے نظر ملانے اِدھر کو آئے
کرے جو محبوب کا نظارہ تو روح ڈالے دھمال مولا
لُٹائے عرفان کے پیالے، کسی کو قُربت کے شرف بخشے
یہی تو نگہت کا مُدعا ہے، پلائے جامِ وصال مولا
حمیرا نگہت
No comments:
Post a Comment