Showing posts with label ظہور منہاس. Show all posts
Showing posts with label ظہور منہاس. Show all posts

Wednesday, 25 September 2024

المستشفى الأہلى العربی اسپتال کے لیے ایک نظم

 المستشفى الأهلى العربی اسپتال  کے لیے ایک نظم


میری نظموں میں ایک ساتھ جگہ پا سکتا ہے

تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے

نحیف پِلوں، سفید بلیوں اور چتکبرے خرگوشوں کو روند کر 

گزر جانے والا گروہ اور جانوروں کے اسپتال کا عملہ

غزہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈ الگ سے لکھا ہوا 

غیر ضروری سا لگنے لگا ہے 

Wednesday, 5 July 2023

کبھی رفو کے لیے اور کبھی کشاں کے لیے

 کبھی رفُو کے لیے اور کبھی کشاں کے لیے

ملا ہوں سارے طبیبوں سے اپنے ٹانکے لیے

یہ جانتا ہوں فقط موت ہے مِری منزل

تڑپ رہا ہوں مگر میں کہاں کہاں کے لیے

سو ایکتا نے بچایا ہوا ہے مجھ تجھ کو

سِناں کماں کے لیے ہے کماں سِناں کے لیے

Thursday, 6 January 2022

مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں

 مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں


مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں

میدان جنگ میں زخمیوں کو پانی پلانے والیں

ہمیشہ صفائی اور

اسپتالوں میں مریضوں کا خیال رکھنے والیں

مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں

Monday, 11 January 2021

اب جہاں ہوں وہاں سے ہلوں گا نہیں میں ملوں گا نہیں

 اب جہاں ہوں وہاں سے ہلوں گا نہیں، میں ملوں گا نہیں

ناشگفتہ ہوں، یعنی کھلوں گا نہیں، میں ملوں گا نہیں

یہ جو اپنے تئیں ایک شہ کار ہوں، یہ میں بے کار ہوں

اور تارِ بقاء سے سِلوں گا نہیں،۔ میں ملوں گا نہیں

لوگ پوچھیں گے میرا چراہ گاہوں سے، پر میں جاتے سمے 

راہ کے پیڑ سے بھی ملوں گا نہیں، میں ملوں گا نہیں

Saturday, 9 January 2021

سوچتا ہوں کہوں جادوئی رنگ میں ایک دن ناگہاں کوئی ایسی غزل

 سوچتا ہوں کہوں، جادوئی رنگ میں ایک دن ناگہاں کوئی ایسی غزل

شعر پڑھتے ہوئے آسماں سے اترنے لگیں دیویاں، کوئی ایسی غزل

کوئی ایسی غزل کھیت میں لڑکیاں پھول چنتے ہوئے گنگنائیں جسے

گنگنائیں جسے پھول چنتے ہوئے کھیت میں لڑکیاں، کوئی ایسی غزل

کاش میں کہہ سکوں، اپنے رنگین خوابوں میں ڈوبی ہوئی لڑکیاں جب پڑھیں

اور پڑھتے سمے، خواب گاہوں میں اڑنے لگیں تتلیاں، کوئی ایسی غزل

Sunday, 27 December 2020

شام سے نظم کہنے کی کوشش میں ہوں

 Dilemma


شام سے نظم کہنے کی کوشش میں ہوں 

نظم کیسے کہوں میں نہیں جانتا

سوچتا ہوں کہ اپنی نئی نظم کی اولیں لائینیں تو ایفکٹیو کہوں تاکہ قاری اسے اینڈ تک پڑھ سکے

میں نہیں جانتا نظم کہتے ہوئے جیب میں کم سے کم کتنے پیسے رکھوں

میں نہیں جانتا نظم کہتے ہوئے میرے ماتحت افسر کی کال آئے تو اس سے کیسے ملوں

میں نہیں جانتا نظم کہتے ہوئے روم کے ٹمپریچر کی حد کیا رکھوں

مجھ سےغلطی ہوئی ہے مان لیا

 اسٹیچو


اب رعایت بھی کیجیے للہ

مجھ سےغلطی ہوئی ہے مان لیا

آپ ساکت پڑے تھے بستر پر

میں نے سمجھا کوئی سٹیچو ہے

ورنہ بوسہ مری بلا جانے

ان کے نقش قدم پہ چلنا ہے

وہ جو منزل پہ سر کے بل پہنچے

Saturday, 26 December 2020

خوش نما پیڑوں کے بیچوں بیچ گھر جاتا ہوا

 خوش نما پیڑوں کے بیچوں بیچ گھر جاتا ہوا

ایک رستہ سانپ کی صورت میں بل کھاتا ہوا

ایک لڑکی مال کے اوصاف گنواتی ہوئی

ایک لڑکا آگہی کی رمز سمجھاتا ہوا

سب کساں پانی کو لے کر لڑ رہے ہیں اور خدا

سب کسانوں کی زمیں پر ابر برساتا ہوا

Friday, 25 December 2020

مجھے عورت کی کتنی ضرورت ہے

 انجیر کے سفید رس سے لکھی گئی نظم


مجھے عورت کی کتنی ضرورت ہے

میں موت کو کہیں بہتر سمجھ اور دیکھ سکتا ہوں

میں جانتا ہوں کہ عورت کی لذت کیا ہے اور کتنے عرصے پر محیط ہے

مجھے معلوم ہے عورت جسم نہیں

مجھے عورت کے پہلو میں نہیں رہنا