اب جہاں ہوں وہاں سے ہلوں گا نہیں، میں ملوں گا نہیں
ناشگفتہ ہوں، یعنی کھلوں گا نہیں، میں ملوں گا نہیں
یہ جو اپنے تئیں ایک شہ کار ہوں، یہ میں بے کار ہوں
اور تارِ بقاء سے سِلوں گا نہیں،۔ میں ملوں گا نہیں
لوگ پوچھیں گے میرا چراہ گاہوں سے، پر میں جاتے سمے
راہ کے پیڑ سے بھی ملوں گا نہیں، میں ملوں گا نہیں
میرے تن پر ہوس کی تہیں بن گئیں، اور اب جب تلک
عشق کے ناخنوں سے چھِِلوں گا نہیں، میں ملوں گا نہیں
واقفِ لذتِ وصل ہوں تو سہی، ہے یہی زندگی
پر حسینوں کا احسان لوں گا نہیں، میں ملوں گا نہیں
ظہور منہاس
No comments:
Post a Comment