خالی گھر
ایک آہٹ
اور اتنا سناٹا
گھر ہے
دیوار و در سے کیا پوچھیں
روز سنسان شب کی چوکھٹ پر
سائے جب اونگھتے ہیں فرصت کے
خالی گھر
ایک آہٹ
اور اتنا سناٹا
گھر ہے
دیوار و در سے کیا پوچھیں
روز سنسان شب کی چوکھٹ پر
سائے جب اونگھتے ہیں فرصت کے
ریت
ریت کے ذرے نہیں یہ کِرچیاں ہیں
آئینے کی کِرچیاں
ابتدائے آفرینش میں یہ ہستی کانچ تھی
کانچ کی حیرت محجر آئینہ
آئینے میں عکس جھلکا چھن ہوئی
کہاں وصال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں
بس اس خیال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں
میں اس جگہ تھا جہاں روشنی کا مصدر ہے
وہاں جمال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں
میں ماہ و سال کے بستر سے گرد کیا جھاڑوں
کہ ماہ و سال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں
اب وہاں لو ہے مِری فریاد کی
وقت کے صحرا میں جتنی ریت ہے
سب پھانک لی
راستوں کے بر سے عمریں ماپ لیں
دوریوں کا سم پروں میں بھر لیا
وُسعتوں کو آنسوؤں پر جر لیا
رقص
کہانی ختم ہوتی ہے
کہانی ختم ہوتے ہی کہانی ختم بس سمجھو
زمیں اک فرشِ مقتل ہے
جہاں زادوں کو ہر صورت
یہاں پر رقص کرنا ہے
سوال کرنے والے کے حلق میں نوالہ ہے
ہمارے راز
سیٹلائٹ چوری کر لیتا تھا
اب سیٹلائٹ سے راز چوری ہو رہے ہیں
شک کرنے والے کھوج کے حمل میں ہیں
تلاش میں جاگتی چشمے کی آنکھ میں
اب سمجھ میں آیا ہے
نظم لکھنے والوں نے نظم کیوں نہیں لکھی؟
پُھول چُننے والوں نے
پُھول چُن لیے لیکن
زخم زخم مٹی کا درد کیوں نہیں سمجھا
مہکتی ہواؤں کے جِسم سے