Showing posts with label انور زاہد. Show all posts
Showing posts with label انور زاہد. Show all posts

Friday, 20 October 2023

خالی گھر ایک آہٹ اور اتنا سناٹا

 خالی گھر


ایک آہٹ

اور اتنا سناٹا

گھر ہے

دیوار و در سے کیا پوچھیں

روز سنسان شب کی چوکھٹ پر

سائے جب اونگھتے ہیں فرصت کے

Sunday, 9 October 2022

ریت کے ذرے نہیں یہ کرچیاں ہیں

 ریت

ریت کے ذرے نہیں یہ کِرچیاں ہیں

آئینے کی کِرچیاں

ابتدائے آفرینش میں یہ ہستی کانچ تھی

کانچ کی حیرت محجر آئینہ

آئینے میں عکس جھلکا چھن ہوئی

Monday, 3 October 2022

کہاں وصال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

 کہاں وصال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

بس اس خیال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

میں اس جگہ تھا جہاں روشنی کا مصدر ہے

وہاں جمال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

میں ماہ و سال کے بستر سے گرد کیا جھاڑوں

کہ ماہ و سال کے پہلو میں خواب سوتے ہیں

Friday, 30 September 2022

اب وہاں لو ہے مری فریاد کی

 اب وہاں لو ہے مِری فریاد کی

وقت کے صحرا میں جتنی ریت ہے

سب پھانک لی

راستوں کے بر سے عمریں ماپ لیں

دوریوں کا سم پروں میں بھر لیا

وُسعتوں کو آنسوؤں پر جر لیا

Friday, 17 June 2022

کہانی ختم ہوتے ہی کہانی ختم بس سمجھو

رقص

کہانی ختم ہوتی ہے

کہانی ختم ہوتے ہی کہانی ختم بس سمجھو

زمیں اک فرشِ مقتل ہے

جہاں زادوں کو ہر صورت 

یہاں پر رقص کرنا ہے

Monday, 11 April 2022

ہمارے راز سیٹلائٹ چوری کر لیتا تھا

سوال کرنے والے کے حلق میں نوالہ ہے

ہمارے راز

سیٹلائٹ چوری کر لیتا تھا

اب سیٹلائٹ سے راز چوری ہو رہے ہیں

شک کرنے والے کھوج کے حمل میں ہیں

تلاش میں جاگتی چشمے کی آنکھ میں 

Tuesday, 20 October 2020

وقت کے مسائل کو بھول جانا پڑتا ہے

اب سمجھ میں آیا ہے

نظم لکھنے والوں نے نظم کیوں نہیں لکھی؟

پُھول چُننے والوں نے

پُھول چُن لیے لیکن

زخم زخم مٹی کا درد کیوں نہیں سمجھا

مہکتی ہواؤں کے جِسم سے