Showing posts with label ارشد حمید. Show all posts
Showing posts with label ارشد حمید. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

شرط دیوار و در و بام اٹھا دی ہے تو کیا

 شرط دیوار و در و بام اٹھا دی ہے تو کیا

قید پھر قید ہے زنجیر بڑھا دی ہے تو کیا

اب بھی تن تیغ سے لڑ جائے تو چھن بولتا ہے

وقت نے اس پہ اگر دھول جما دی ہے تو کیا

میرے خسرو نے مجھے غم بھی زیادہ بخشا

دولت عشق اگر مجھ کو سوا دی ہے تو کیا

Tuesday, 13 April 2021

چراغ درد کہ شمع طرب پکارتی ہے

 چراغِ درد کہ شمعِ طرب پکارتی ہے

اک آگ سی لبِ دریائے شب پکارتی ہے

عدو سے جان بچی ہے نہ دوست بچھڑے ہیں

یہ شامِ گریہ ہمیں بے سبب پکارتی ہے

چراغِ شوق پہ رہ رہ کے نور آتا ہے

ہوا بہ طرزِ رخ و چشم و لب پکارتی ہے

Saturday, 10 April 2021

ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے

 ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے

اسی درخت کے سائے میں گھر بھی کرنا ہے

انا ہی دوست، انا ہی حریف ہے میری

اسی سے جنگ اسی کو سِپر بھی کرنا ہے

چل آ تجھے کسی محفوظ گھر میں پہنچا دوں

پھر اس کے بعد مجھے تو سفر بھی کرنا ہے

Friday, 9 April 2021

غزل میں جان پڑی گفتگو میں پھول کھلے

 غزل میں جان پڑی گفتگو میں پھُول کھِلے

مِری نوا سے دیار نمو میں پھول کھلے

مِرے ہی شعر اچھالے مِرے حریفوں نے

مِرے طفیل زبان عدو میں پھول کھلے

یہ کس کو یاد کیا روح کی ضرورت نے

یہ کس کے نام سے میرے لہو میں پھول کھلے

ملے جو اس سے تو یادوں کے پر نکل آئے

 ملے جو اس سے تو یادوں کے پر نکل آئے

اس اک مقام پہ کتنے سفر نکل آئے

اُجاڑ دشت میں بس جائے میری ویرانی

عجب نہیں کہ یہیں کوئی گھر نکل آئے

بس ایک لمحے کو چمکی تھی اس کی تیغ نظر

خلائے وقت میں قرنوں کے سر نکل آئے