محبوب
محبوب حسین پر سے میں قربان جاؤں
جب تک جیوں محبوب کا دم بھروں
سکھیو! دعا کرو
کہ میں یہ ذمہ داری آخر تک نبھا سکوں
آنسوؤں کے دھاگوں کے ساتھ اپنے سینے کے زخم سی لوں گا
محبوب
محبوب حسین پر سے میں قربان جاؤں
جب تک جیوں محبوب کا دم بھروں
سکھیو! دعا کرو
کہ میں یہ ذمہ داری آخر تک نبھا سکوں
آنسوؤں کے دھاگوں کے ساتھ اپنے سینے کے زخم سی لوں گا
پیغامبر
محبوب کی آنکھیں حسن کی پیغامبری کا فریضہ ادا کرتی ہیں
یہ پیغامبر (آنکھیں) جام بھر کر لاتا ہے
اور اپنے ہاتھوں سے ہمیں آ کر دیتا ہے
اے کیف میں مبتلا ہوشیار ہو، پیش گاہِ حسن ہے
وہ آتے ہی لوٹ جاتے ہیں
صاحب ہدایت کی نظر
اپنی طرح کی اثر پذیریوں کے ساتھ موجود رہتی ہے
ہمارے رہنما نے ہمیں یہی راہِ ہدایت دکھائی ہے
اور یہی راز سمجھایا ہے
یہاں ہر طرح کے حالات میں رہ کر دیکھا ہے
اپنے کیے کا نتیجہ خود ہی بھگتنا پڑتا ہے
مرشد ہادی
اپنے مرشد ہادی کے بغیر کسی راہ کے انتخاب سے توبہ کرتا ہوں
اور غیر کے خیالِ خام سے بھی تائب ہوں
میں جیسی بھی ہوں، آپ کی ہوں
اور منزلِ وصال سے دور نہ کرنا
آپ کے حسنِ بے مثال پر بک گئی ہوں