ایسی عادت پڑی لڑائی کی
جان لیتا ہے بھائی بھائی کی
انگلیاں اٹھتی ہیں خدائی کی
ہت تِری ایسی بے حیائی کی
دھجیاں میکدے میں شیخ کی آج
خوب اڑتی ہیں پارسائی کی
ایسی عادت پڑی لڑائی کی
جان لیتا ہے بھائی بھائی کی
انگلیاں اٹھتی ہیں خدائی کی
ہت تِری ایسی بے حیائی کی
دھجیاں میکدے میں شیخ کی آج
خوب اڑتی ہیں پارسائی کی
گفتار اور نہ جبہ و دستار دیکھیے
ناوک جنابِ شیخ کا کردار دیکھیے
میری طرف سے اے مرے سرکار دیکھیے
کب سے کھڑا ہے طالبِ دیدار دیکھیے
فیشن کی گر یہی رہی رفتار دیکھیے
ننگے پھریں گے سب سرِ بازار دیکھیے
دل کے کہنے پہ میں چلا ہی نہیں
عشق کی چال میں پھنسا ہی نہیں
اس گرانی میں عشق کو ٹٹولا
لاکھ پیٹا مگر چلا ہی نہیں
جس طرح میں لٹا جوانی میں
یوں کوئی آج تک لٹا ہی نہیں
نہ ہماری ہے یہ اردو نہ تمہاری اردو
بلکہ ہر قوم کی ہے راج دلاری اردو
سر کیے اس نے اکیلے ہی ہزاروں میداں
کسی میدان میں اب تک نہیں ہاری اردو
اب بھی اسٹیج پہ بھاشن جو دیا جاتا ہے
بولتے اس میں بھی ہیں رام بہاری اردو