Thursday, 22 April 2021

نہ ہماری ہے یہ اردو نہ تمہاری اردو

نہ ہماری ہے یہ اردو نہ تمہاری اردو

بلکہ ہر قوم کی ہے راج دلاری اردو

سر کیے اس نے اکیلے ہی ہزاروں میداں

کسی میدان میں اب تک نہیں ہاری اردو

اب بھی اسٹیج پہ بھاشن جو دیا جاتا ہے

بولتے اس میں بھی ہیں رام بہاری اردو

اس کو ہر ملک کا انسان سمجھ لیتا ہے

اس سے ہر شخص کو ہے آج بھی پیاری اردو

جو مخالف ہیں بظاہر انہیں معلوم نہیں

رات دن بولتی ہے ان کی کہاری اردو

پاک ہر عیب سے ہے اور بھی دامن اس کا

گنگا جمنا کے ہے پانی سے نکھاری اردو

کہیں غالب کی ہیں نظمیں کہیں چکبست کی ہیں

شیخ و پنڈت نے ہے مل جل کے سنواری اردو

دوستوں کے لیے پیغام مسرت ہے مگر

دشمنوں کے لیے بے شک ہے کٹاری اردو

کوٹ پتلون پہن کر بھی نہ چھوڑی ہم نے

ہم نے کھدر کی بنا ڈالی ہے ساری اردو

نوجوانان‌‌ وطن سے ہے یہ ناوک کا پیام

مرتے مرتے بھی زباں پر رہے جاری اردو


ناوک لکھنوی

اشیاق حسین ظریفی

No comments:

Post a Comment