نہ ہماری ہے یہ اردو نہ تمہاری اردو
بلکہ ہر قوم کی ہے راج دلاری اردو
سر کیے اس نے اکیلے ہی ہزاروں میداں
کسی میدان میں اب تک نہیں ہاری اردو
اب بھی اسٹیج پہ بھاشن جو دیا جاتا ہے
بولتے اس میں بھی ہیں رام بہاری اردو
اس کو ہر ملک کا انسان سمجھ لیتا ہے
اس سے ہر شخص کو ہے آج بھی پیاری اردو
جو مخالف ہیں بظاہر انہیں معلوم نہیں
رات دن بولتی ہے ان کی کہاری اردو
پاک ہر عیب سے ہے اور بھی دامن اس کا
گنگا جمنا کے ہے پانی سے نکھاری اردو
کہیں غالب کی ہیں نظمیں کہیں چکبست کی ہیں
شیخ و پنڈت نے ہے مل جل کے سنواری اردو
دوستوں کے لیے پیغام مسرت ہے مگر
دشمنوں کے لیے بے شک ہے کٹاری اردو
کوٹ پتلون پہن کر بھی نہ چھوڑی ہم نے
ہم نے کھدر کی بنا ڈالی ہے ساری اردو
نوجوانان وطن سے ہے یہ ناوک کا پیام
مرتے مرتے بھی زباں پر رہے جاری اردو
ناوک لکھنوی
اشیاق حسین ظریفی
No comments:
Post a Comment