Thursday, 22 April 2021

طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے

طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے

جو تم چاہو تو بہتر میری حالت ہو تو سکتی ہے

وہ دل 💖 لینے چلے ہیں اک نگاہ ناز کے بدلے

چلو اس جنس کی بھی کوئی قیمت ہو تو سکتی ہے

💢نہیں اہل وفا کی قدر تیری بزم میں لیکن💢

کبھی ان سرفروشوں کی ضرورت ہو تو سکتی ہے

دعائیں مانگتے تھے صبح نو کی یہ نہ سوچا تھا

کبھی صبح وطن بھی شام غربت ہو تو سکتی ہے

💢یہ مانا کاروبار زندگی قائم ہے نفرت پر💢

مگر انساں کو انساں سے محبت ہو تو سکتی ہے

یہ میں نے کب کہا میری طرح تم کو محبت ہے

مگر میری طرح تم کو محبت 💖 ہو تو سکتی ہے

چلے ہیں روٹھ کر کچھ رند میخانہ سے اے میکش

💢یہی آزردگی عزم بغاوت ہو تو سکتی ہے💢


میکش بدایونی

رفیق احمد صدیقی

No comments:

Post a Comment