طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے
جو تم چاہو تو بہتر میری حالت ہو تو سکتی ہے
وہ دل 💖 لینے چلے ہیں اک نگاہ ناز کے بدلے
چلو اس جنس کی بھی کوئی قیمت ہو تو سکتی ہے
💢نہیں اہل وفا کی قدر تیری بزم میں لیکن💢
کبھی ان سرفروشوں کی ضرورت ہو تو سکتی ہے
دعائیں مانگتے تھے صبح نو کی یہ نہ سوچا تھا
کبھی صبح وطن بھی شام غربت ہو تو سکتی ہے
💢یہ مانا کاروبار زندگی قائم ہے نفرت پر💢
مگر انساں کو انساں سے محبت ہو تو سکتی ہے
یہ میں نے کب کہا میری طرح تم کو محبت ہے
مگر میری طرح تم کو محبت 💖 ہو تو سکتی ہے
چلے ہیں روٹھ کر کچھ رند میخانہ سے اے میکش
💢یہی آزردگی عزم بغاوت ہو تو سکتی ہے💢
میکش بدایونی
رفیق احمد صدیقی
No comments:
Post a Comment