عجیب درد کی شدت سے ہمکنار ہے دل
کسی نے پھر سے پکارا ہے بے قرار ہے دل
شدید دکھ ہے کہ تجھ کو پرکھ نہیں پائے
تمہارے ساتھ تعلق پہ شرمسار ہے دل
یہ آنکھ نم ہے تو مطلب کہ آنکھ زندہ ہے
یہ دل دھڑکتا ہے مطلب کہ تار تار ہے دل
عجیب درد کی شدت سے ہمکنار ہے دل
کسی نے پھر سے پکارا ہے بے قرار ہے دل
شدید دکھ ہے کہ تجھ کو پرکھ نہیں پائے
تمہارے ساتھ تعلق پہ شرمسار ہے دل
یہ آنکھ نم ہے تو مطلب کہ آنکھ زندہ ہے
یہ دل دھڑکتا ہے مطلب کہ تار تار ہے دل
یہ کام آ ہی گیا پر زمانے لگ گئے ہیں
شدید دکھ کو ہنسی میں اڑانے لگ گئے ہیں
وہ عنقریب ہمیں چھوڑ دے گا کیونکہ ہم
وہ لازمی ہے اسے یہ بتانے لگ گئے ہیں
خدا کرے کہ انہیں پیار ہو پرندوں سے
درخت کاٹ کے جو گھر بنانے لگ گئے ہیں
عشق میں تجربات مت کرنا
اب کسی سے بھی ہاتھ مت کرنا
خضر ہو تم نہ میں سکندر ہوں
تم وہی میرے ساتھ مت کرنا
میں تصور بھی کر نہیں سکتا
اب بچھڑنے کی بات مت کرنا
دیکھ نفرت کے حوالوں سے کہاں سمجھیں گے
گاؤں کے لوگ ہیں چالوں سے کہاں سمجھیں گے
ٹھوکریں کھا کر ہی سمجھیں گے نئی نسل کے لوگ
چھوڑ ناں یار یہ لوگ مثالوں سے کہاں سمجھیں گے
بول ناں، ان کو بتا، عشق نے کھینچا ہے سکوں
لوگ بکھرے ہوئے بالوں سے کہاں سمجھیں گے
کون کیسا ہے، کیوں ہے، تیرا کیا لگتا ہے؟
پوچھتا رہتا ہے تُو، میرا خدا لگتا ہے؟
اس لیے تجھ سے میں تنہائی میں ملتا ہی نہیں
کیا سے کیا سمجھیں گے، لوگوں کا پتا لگتا ہے
عیب مجھ کو میرے بتلائے نہیں آج تلک
دوست ہو کر بھی تُو دشمن سے ملا لگتا ہے
غرور ٹوٹ گیا، اپنی حد میں آ گئے ہیں
انا پرست محبت کی زد میں آ گئے ہیں
تمہارے ساتھ تعلق کا فائدہ یہ ہوا
ہم جیسے لوگ وفا کی سند میں آ گئے ہیں
میں کُل مِلاؤں تو اتنے نہیں ملے مجھ کو
جو غم تمہاری محبت کی مد میں آ گئے ہیں
دل تجھے دیکھ کے کچھ دیر تو یوں رہتا ہے
جیسے بے گھر کو کسی گھر میں سکوں رہتا ہے
تجھ سے بچھڑا ہوں تو مُرجھایا ہوا رہتا ہوں
غم زیادہ ہو تو پرچم بھی نگوں رہتا ہے
دوسری بار محبت ہے،۔ وہی حالت ہے
مل کے آؤں بھی تو ملنے کا جنوں رہتا ہے