Showing posts with label مصطفیٰ کمال. Show all posts
Showing posts with label مصطفیٰ کمال. Show all posts

Saturday, 7 January 2023

عجیب درد کی شدت سے ہمکنار ہے دل

 عجیب درد کی شدت سے ہمکنار ہے دل

کسی نے پھر سے پکارا ہے بے قرار ہے دل

شدید دکھ ہے کہ تجھ کو پرکھ نہیں پائے

تمہارے ساتھ تعلق پہ شرمسار ہے دل

یہ آنکھ نم ہے تو مطلب کہ آنکھ زندہ ہے

یہ دل دھڑکتا ہے مطلب کہ تار تار ہے دل

Wednesday, 12 October 2022

یہ کام آ ہی گیا پر زمانے لگ گئے ہیں

 یہ کام آ ہی گیا پر زمانے لگ گئے ہیں

شدید دکھ کو ہنسی میں اڑانے لگ گئے ہیں

وہ عنقریب ہمیں چھوڑ دے گا کیونکہ ہم

وہ لازمی ہے اسے یہ بتانے لگ گئے ہیں

خدا کرے کہ انہیں پیار ہو پرندوں سے

درخت کاٹ کے جو گھر بنانے لگ گئے ہیں

Tuesday, 28 September 2021

عشق میں تجربات مت کرنا

 عشق میں تجربات مت کرنا

اب کسی سے بھی ہاتھ مت کرنا

خضر ہو تم نہ میں سکندر ہوں

تم وہی میرے ساتھ مت کرنا

میں تصور بھی کر نہیں سکتا

اب بچھڑنے کی بات مت کرنا

Sunday, 26 September 2021

دیکھ نفرت کے حوالوں سے کہاں سمجھیں گے

 دیکھ نفرت کے حوالوں سے کہاں سمجھیں گے

گاؤں کے لوگ ہیں چالوں سے کہاں سمجھیں گے

ٹھوکریں کھا کر ہی سمجھیں گے نئی نسل کے لوگ

چھوڑ ناں یار یہ لوگ مثالوں سے کہاں سمجھیں گے

بول ناں، ان کو بتا، عشق نے کھینچا ہے سکوں

لوگ بکھرے ہوئے بالوں سے کہاں سمجھیں گے

Saturday, 25 September 2021

کون کیسا ہے کیوں ہے تیرا کیا لگتا ہے

 کون کیسا ہے، کیوں ہے، تیرا کیا لگتا ہے؟ 

پوچھتا رہتا ہے تُو، میرا خدا لگتا ہے؟

اس لیے تجھ سے میں تنہائی میں ملتا ہی نہیں

کیا سے کیا سمجھیں گے، لوگوں کا پتا لگتا ہے

عیب مجھ کو میرے بتلائے نہیں آج تلک

دوست ہو کر بھی تُو دشمن سے ملا لگتا ہے

Friday, 24 September 2021

غرور ٹوٹ گیا اپنی حد میں آ گئے ہیں

 غرور ٹوٹ گیا، اپنی حد میں آ گئے ہیں

انا پرست محبت کی زد میں آ گئے ہیں

تمہارے ساتھ تعلق کا فائدہ یہ ہوا

ہم جیسے لوگ وفا کی سند میں آ گئے ہیں

میں کُل مِلاؤں تو اتنے نہیں ملے مجھ کو

جو غم تمہاری محبت کی مد میں آ گئے ہیں

Sunday, 13 December 2020

دل تجھے دیکھ کے کچھ دیر تو یوں رہتا ہے

 دل تجھے دیکھ کے کچھ دیر تو یوں رہتا ہے

جیسے بے گھر کو کسی گھر میں سکوں رہتا ہے

تجھ سے بچھڑا ہوں تو مُرجھایا ہوا رہتا ہوں

غم زیادہ ہو تو پرچم بھی نگوں رہتا ہے

دوسری بار محبت ہے،۔ وہی حالت ہے

مل کے آؤں بھی تو ملنے کا جنوں رہتا ہے