Showing posts with label نذیر قیصر. Show all posts
Showing posts with label نذیر قیصر. Show all posts

Sunday, 12 November 2023

خاموشی غار حرا دل میرا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خاموشی غار حِرا دل میرا

تیرے قدموں کی صدا دل میرا

گُنبد سبز پہ تاروں کا ہجوم 

اور سرِ بابِ دُعا دل میرا

صُبح کے ساتھ جُھکی شاخِ گُلاب

شاخ کے ساتھ جُھکا دل میرا

Sunday, 17 July 2022

وہی پلکوں کا جھپکنا وہی جادو تیرے

 وہی پلکوں کا جھپکنا، وہی جادو تیرے

سارے انداز چرا لائی ہے خوشبو تیرے

تجھ سے میں جسم چراتا تھا، مگر علم نہ تھا

میرے سائے سے لپٹ جائیں گے بازو تیرے

تیری آنکھوں میں پگھلتی رہی صورت میری

میری تصور پہ گرتے رہے آنسو تیرے

Tuesday, 19 April 2022

تیرے سائے میں چھپا کر تجھے لے جاؤں گا

 تیرے سائے میں چھپا کر تجھے لے جاؤں گا

تُو دیا ہے، میں جلا کر تجھے لے جاؤں گا

سارے رستوں پہ بٹھا رکھے ہیں پہرے تُو نے

کسے رستے سے بھی آ کر تجھے لے جاؤں گا

اس سے پہلے کہ یہ بارش، یہ ہوا رک جائے

اپنی چھتری میں بلا کر تجھے لے جاؤں گا

Tuesday, 1 February 2022

دل سے دنیا نکال دی میں نے

 دل سے دنیا نکال دی میں نے

آگ کاسے میں ڈال دی میں نے

پیاس چھلکی تھی میری چھاگل سے

آسماں تک اچھال دی میں نے

نقشِ پا ہیں میرے ستاروں پر

وقت کو اپنی چال دی میں نے

Wednesday, 21 April 2021

یہ تیرے مرے ہاتھ

 یہ تیرے مِرے ہاتھ

خوشبو سے بندھے ہاتھ

کچھ بھی نہ کہا اس نے

اور چُوم لیے ہاتھ

وہ چھت سے دِکھاتی ہے

مہندی سے رنگے ہاتھ

Monday, 15 March 2021

دیا جلایا تن سے دھول اتاری ہے

 دِیا جلایا تن سے دھول اتاری ہے

یہ سب تجھ سے ملنے کی تیاری ہے

گزر رے ہیں لہو کی دھار سے رات اور دن

رات اور دن کے پیچھے اپنی باری ہے

ہم دونوں کے خواب کہاں مل سکتے تھے

تم نے رات اور ہم نے عمر گزاری ہے

Tuesday, 20 December 2016

پہلے انکار بہت کرتا ہے

پہلے انکار بہت کرتا ہے
بعد میں پیار بہت کرتا ہے
چوم کر جلتی ہوئی پیشانی
وہ، گنہ گار بہت کرتا ہے
مان لیتا ہے وہ ساری باتیں
پھر بھی تکرار بہت کرتا ہے

خاک اگاتی ہیں صورتیں کیا کیا

خاک اگاتی ہیں صورتیں کیا کیا
آئینوں میں ہیں صورتیں کیا کیا
عمر کے بے ثبات صفحوں پر
لکھ رہا ہوں عبارتیں کیا کیا
کھلتے جاتے ہیں بابِ حرف و صدا
ہو رہی ہیں زیارتیں کیا کیا

آدمی ہوں مٹی کا

آدمی ہوں مٹی کا
ذائقہ ہوں پانی کا
بے صدا مسافر ہوں
بے چراغ بستی کا
اور میرے کاندھے پر
بوجھ خالی گٹھڑی کا

فرصت خواب خواب سے کم ہے

فرصتِ خواب خواب سے کم ہے
پیاس ہے اور شراب سے کم ہے
جتنی مجھ سے تمہیں محبت ہے
زندگی، اس حساب سے کم ہے
ایک صورت کہ جو حجاب میں تھی
آئینے میں حجاب سے کم ہے

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں 
جھانک رہی ہے دنیا مجھ میں 
کوئی پرانا شہر ہے جس کا 
کھلتا ہے دروازہ مجھ میں
دیا جلا کے چھوڑ گیا ہے 
کوئی اپنا سایا مجھ میں 

آج دریچے میں وہ آنا بھول گیا

آج دریچے میں وہ آنا بھول گیا
میں بھی اپنا دِیا جلانا بھول گیا
آج مجھے بھی اس کی یاد نہیں آئی
وہ بھی میرے خواب میں آنا بھول گیا
بیلیں دیواروں سے لپٹنا بھول گئیں
موسم بھی اپنا پھول کھلانا بھول گیا

Tuesday, 11 October 2016

شام رخصت کہ ترستی ہی چلی جاتی ہے

شامِ رخصت کہ ترستی ہی چلی جاتی ہے
وہ مجھے بانہوں میں کستی ہی چلی جاتی ہے
چومتا جاتا ہوں میں پھولوں بھری ڈالی کو
اور خوشبو مجھے ڈستی ہی چلی جاتی ہے 
دور تک پھول برستے ہی چلے جاتے ہیں 
جب وہ ہنستی ہے تو ہنستی ہی چلی جاتی ہے

دیا جلایا تن سے دھول اتاری ہے

دیا جلایا، تن سے دھول اتاری ہے
یہ سب تم سے ملنے کی تیاری ہے
گزر رہے ہیں لہو کی دھار سے رات اور دن
رات اور دن کے پیچھے اپنی باری ہے 
ہم دونوں کے خواب کہاں مل سکتے ہیں
تم نے رات اور میں نے عمر گزاری ہے

Wednesday, 2 December 2015

مٹی سے کچھ خواب اگانے آیا ہوں

مٹی سے کچھ خواب اگانے آیا ہوں
میں دھرتی کا گیت سنانے آیا ہوں
تُو نے دریاؤں میں دِیئے بہائے ہیں
میں بھی اپنے ہونٹ جلانے آیا ہوں
تجھ سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے
میں دنیا میں تیرے بہانے آیا ہوں

دعا کا پھول پڑا رہ گیا ہے تھالی میں

دعا کا پھول پڑا رہ گیا ہے تھالی میں
ہوا اسے بھی اڑا دے نہ بے خیالی میں
وہ مجھ کو مانگ رہا ہے مجھے مِری خاطر
میں خود کو ڈال نہ دوں کاسۂ سوالی میں
بس ایک موجۂ بادِ بہار گزری تھی
پِرو گئی ہے مِرا جسم ڈالی ڈالی میں