عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خاموشی غار حِرا دل میرا
تیرے قدموں کی صدا دل میرا
گُنبد سبز پہ تاروں کا ہجوم
اور سرِ بابِ دُعا دل میرا
صُبح کے ساتھ جُھکی شاخِ گُلاب
شاخ کے ساتھ جُھکا دل میرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خاموشی غار حِرا دل میرا
تیرے قدموں کی صدا دل میرا
گُنبد سبز پہ تاروں کا ہجوم
اور سرِ بابِ دُعا دل میرا
صُبح کے ساتھ جُھکی شاخِ گُلاب
شاخ کے ساتھ جُھکا دل میرا
وہی پلکوں کا جھپکنا، وہی جادو تیرے
سارے انداز چرا لائی ہے خوشبو تیرے
تجھ سے میں جسم چراتا تھا، مگر علم نہ تھا
میرے سائے سے لپٹ جائیں گے بازو تیرے
تیری آنکھوں میں پگھلتی رہی صورت میری
میری تصور پہ گرتے رہے آنسو تیرے
تیرے سائے میں چھپا کر تجھے لے جاؤں گا
تُو دیا ہے، میں جلا کر تجھے لے جاؤں گا
سارے رستوں پہ بٹھا رکھے ہیں پہرے تُو نے
کسے رستے سے بھی آ کر تجھے لے جاؤں گا
اس سے پہلے کہ یہ بارش، یہ ہوا رک جائے
اپنی چھتری میں بلا کر تجھے لے جاؤں گا
دل سے دنیا نکال دی میں نے
آگ کاسے میں ڈال دی میں نے
پیاس چھلکی تھی میری چھاگل سے
آسماں تک اچھال دی میں نے
نقشِ پا ہیں میرے ستاروں پر
وقت کو اپنی چال دی میں نے
یہ تیرے مِرے ہاتھ
خوشبو سے بندھے ہاتھ
کچھ بھی نہ کہا اس نے
اور چُوم لیے ہاتھ
وہ چھت سے دِکھاتی ہے
مہندی سے رنگے ہاتھ
دِیا جلایا تن سے دھول اتاری ہے
یہ سب تجھ سے ملنے کی تیاری ہے
گزر رے ہیں لہو کی دھار سے رات اور دن
رات اور دن کے پیچھے اپنی باری ہے
ہم دونوں کے خواب کہاں مل سکتے تھے
تم نے رات اور ہم نے عمر گزاری ہے