دل سے دنیا نکال دی میں نے
آگ کاسے میں ڈال دی میں نے
پیاس چھلکی تھی میری چھاگل سے
آسماں تک اچھال دی میں نے
نقشِ پا ہیں میرے ستاروں پر
وقت کو اپنی چال دی میں نے
تیری جنت کے ساتھ دنیا بھی
تیرے قدموں میں ڈال دی میں نے
اور وہ جب پہلے خواب سے جاگی
اس کو پتوں کی شال دی میں نے
جب زمینوں پہ شب اتاری گئی
اس کو صبح وصال دی میں نے
رات کے ہاتھ میں تھی شاخِ گلاب
شاخ بوتل میں ڈال دی میں نے
حرف لکھا تھا لوح پر تو نے
حرف میں جان ڈال دی میں نے
شاعروں کی پرانی محبوبہ
شاعری سے نکال دی میں نے
ایک مچھلی جو ہاتھ آئی تھی
پھر سے دریا میں ڈال دی میں نے
لوگ دکھ میں بھی مسکراتے ہیں
اس کو اپنی مثال دی میں نے
اور آخر خدا کی صورت بھی
اپنی غزلوں میں ڈھال دی میں نے
نذیر قیصر
No comments:
Post a Comment