Tuesday, 1 February 2022

دل سے دنیا نکال دی میں نے

 دل سے دنیا نکال دی میں نے

آگ کاسے میں ڈال دی میں نے

پیاس چھلکی تھی میری چھاگل سے

آسماں تک اچھال دی میں نے

نقشِ پا ہیں میرے ستاروں پر

وقت کو اپنی چال دی میں نے

تیری جنت کے ساتھ دنیا بھی

تیرے قدموں میں ڈال دی میں نے

اور وہ جب پہلے خواب سے جاگی

اس کو پتوں کی شال دی میں نے

جب زمینوں پہ شب اتاری گئی

اس کو صبح وصال دی میں نے

رات کے ہاتھ میں تھی شاخِ گلاب

شاخ بوتل میں ڈال دی میں نے

حرف لکھا تھا لوح پر تو نے

حرف میں جان ڈال دی میں نے

شاعروں کی پرانی محبوبہ

شاعری سے نکال دی میں نے

ایک مچھلی جو ہاتھ آئی تھی

پھر سے دریا میں ڈال دی میں نے

لوگ دکھ میں بھی مسکراتے ہیں

اس کو اپنی مثال دی میں نے

اور آخر خدا کی صورت بھی

اپنی غزلوں میں ڈھال دی میں نے


نذیر قیصر

No comments:

Post a Comment