جو خیال آیا تمہاری یاد میں ڈھلتا رہا
دل چراغِ شام بن کر صبح تک جلتا رہا
ہم کہاں رکتے کہ صدیوں کا سفر درپیش تھا
گھنٹیاں بجتی رہیں اور کارواں چلتا رہا
کتنے لمحوں کے پتنگے آئے، آ کر جل بجھے
میں چراغِ زندگی تھا، تا ابد جلتا رہا
جو خیال آیا تمہاری یاد میں ڈھلتا رہا
دل چراغِ شام بن کر صبح تک جلتا رہا
ہم کہاں رکتے کہ صدیوں کا سفر درپیش تھا
گھنٹیاں بجتی رہیں اور کارواں چلتا رہا
کتنے لمحوں کے پتنگے آئے، آ کر جل بجھے
میں چراغِ زندگی تھا، تا ابد جلتا رہا
ہوا چلی تو نشہ چھا گیا فضاؤں میں
خیال ڈوب گیا دور کی صداؤں میں
نہ ہاتھ آئے مِرے دوڑتے ہوئے لمحے
سفر کٹا ہے مِرا، بادلوں کی چھاؤں میں
میں اپنے شہر کے نقش و نگار بھول گیا
کسی نے لوٹ لیا مجھ کو تیرے گاؤں میں
تِری آنکھیں تِرا حسن جواں تحریر کرتے ہیں
زمیں کی پستیوں میں آسماں تحریر کرتے ہیں
کوئی موسم خزاں سے آشنا اس کو نہیں کرتا
ہم اپنے خون سے جو گلستاں تحریر کرتے ہیں
زمانے کی کوئی کروٹ اسے سنولا نہیں سکتی
ہم اپنی آنچ سے جو کہکشاں تحریر کرتے ہیں
شامِ وعدہ کے گزرتے پل، ذرا آہستہ چل
کیا خبر پھر کون ہو گا کل، ذرا آہستہ چل
زخم پر رہنے دے تھوڑی دیر تک مرہم کی تہ
اے شفق کے ڈوبتے بادل، ذرا آہستہ چل
کچھ نظر آتا نہیں آنکھوں کو اے دریائے غم
سارے منظر ہو گئے جل تھل، ذرا آہستہ چل
خود اپنی ذات کا نام و نشان بھول گئے
رہا ہوئے تو پرندے اڑان بھول گئے
اس انہماک سے کار زمیں میں محو ہوئے
زمیں پہ چھایا ہوا آسمان بھول گئے
ہر امتحان میں پہلا سبق تو یاد آیا
کتاب عشق کہیں درمیان بھول گئے
صدا کا لوچ سخن کا نکھار لے کے چلے
تِری نظر سے فسون بہار لے کے چلے
تِرے جمال کی صبح جواں تھی آنکھوں میں
جبیں پہ شام ستم کا غبار لے کے چلے
رہِ وفا میں متاعِ سفر کی بات نہ پوچھ
بس ایک زندگئ مستعار لے کے چلے
تیری طلب میں ایسے گرفتار ہو گئے
ہم لوگ خود بھی رونقِ بازار ہو گئے
کیا خواب تھا کہ کچھ نہیں ٹھہرا نگاہ میں
کیا عکس تھا کہ نقش بہ دیوار ہو گئے
حدِ نظر بچھا تھا تری دید کا سماں
جو راستے تھے سہل وہ دشوار ہو گئے
لذتِ درد کا اظہار نہ ہونے پائے
دیکھنا، لفظ گنہگار نہ ہونے پائے
دھوپ کی دشتِ بلا خیز میں ہم جلتے رہے
کسی سائے کے طلبگار نہ ہونے پائے
زیست میں درپئے آزار رہے وہ لمحے
جو تِری چسمِ فسوں کار نہ ہونے پائے
بھیڑ ایسی ہے کہ مجھ کو راستہ ملتا نہیں
گُل کوئی کھِلتا نہیں، شعلہ کوئی اٹھتا نہیں
اے مِرے شوقِ طلب تیرے جنوں کی خیر ہو
تُو نے کیا حدِ نِگہ کا فاصلہ دیکھا نہیں
اے غرورِ حسن میں تیرے بدن کا عکس ہوں
محوِ حیرت ہوں کہ تُو نے مجھ کو پہچانا نہیں
اب تو اپنے جسم کا سایہ بھی بے گانہ ہُوا
میں تِری محفل میں آ کر اور بھی تنہا ہوا
وقفِ دردِ جاں ہوا،۔ محوِ غمِ دنیا ہوا
دل عجب شے ہے کبھی قطرہ کبھی دریا ہوا
تیری آہٹ کے تعاقب میں ہوں صدیوں سے رواں
راستوں کے پیچ و خم میں ٹھوکریں کھاتا ہوا
تعلقات کے زخموں کا ہوں ستایا ہوا
جو شام آئی مِرا سایہ بھی پرایا ہوا
مٹے گا ذہن سے کب تیری یاد کا افسوں
ہزار صدیوں سے یہ بوجھ ہے اٹھایا ہوا
وہ ایک شخص ابھی دل میں چھپ کے بیٹھا ہے
وہ شخص جو کبھی اپنا کبھی پرایا ہوا