Showing posts with label صفدر صدیق. Show all posts
Showing posts with label صفدر صدیق. Show all posts

Tuesday, 22 March 2022

یہاں قیام سے بہتر ہے کوچ کر جانا

 یہاں قیام سے بہتر ہے کوچ کر جانا

وہ با خبر تھا جسے ہم نے بے خبر جانا

ہم اس کے دوست ہیں کیا ذکرِ وصفِ یار کریں

جسے خود اس کے رقیبوں نے معتبر جانا

جہاں پہ طاق ہیں بغض و ریا کے فن میں تمام

اس ایک شخص نے اخلاص کو ہنر جانا

Monday, 14 March 2022

مجھے سب سے محبت ہے

مجھے سب سے محبت ہے


 کسی کے ہونٹ تجھ سے ہیں کسی کے گال تجھ سے ہیں

کسی کا قدّوقامت اور خد و خال تجھ سے ہیں

مجھے سب سے محبت ہے

وہ ہے جس کی نظر تجھ سی وہ جس کا رنگ تجھ سا ہے

وہ آنکھیں جس کی تجھ جیسی وہ جس کے بال تجھ سے ہیں

Saturday, 12 March 2022

رنج و الم اور آہ و فغاں سب جاری ہیں مجھ میں

 رنج و الم اور آہ و فغاں سب جاری ہیں مجھ میں

آگ پکڑنے والی چیزیں ساری ہیں مجھ میں

مجھ سے میری ہر خواہش سب حرص و ہوس لے جاؤ

بیچ رہا ہوں جو چیزیں بازاری ہیں مجھ میں

میں خود بھی اکثر ان سے زخمی ہو جاتا ہوں

وہ باتیں جو باعثِ دِل آزاری ہیں مجھ میں

Friday, 11 March 2022

جس وقت آنکھیں خواب آئینہ دل ہوتا ہے

 جس وقت آنکھیں خواب آئینہ دل ہوتا ہے

شعر نہیں لکھا جاتا نازل ہوتا ہے

تنہا کیوں چلتے ہو کسی کے ساتھ چلو تو

اک رستہ ایسا ہے جو منزل ہوتا ہے

اور کسی کے ہاتھ پہ ہم بیعت نہ کریں گے

دریا صرف سمندر میں شامل ہوتا ہے

Thursday, 10 March 2022

ازل سے ہمسفر کیا ہم مقدر تک نہیں ملتے

 ازل سے ہمسفر کیا ہم مقدر تک نہیں ملتے

کنارے آبِ دریا کے سمندر تک نہیں ملتے 

بچا آباد آنکھوں کو بہت رونا نہیں اچھا 

جہاں سیلاب آتے ہیں وہاں گھر تک نہیں ملتے 

گزرگاہیں یہ راز افشا نہیں کرتیں جہاں پہلے 

بہت اونچے محل تھے ان کو پتھر تک نہیں ملتے