یہاں قیام سے بہتر ہے کوچ کر جانا
وہ با خبر تھا جسے ہم نے بے خبر جانا
ہم اس کے دوست ہیں کیا ذکرِ وصفِ یار کریں
جسے خود اس کے رقیبوں نے معتبر جانا
جہاں پہ طاق ہیں بغض و ریا کے فن میں تمام
اس ایک شخص نے اخلاص کو ہنر جانا
یہاں قیام سے بہتر ہے کوچ کر جانا
وہ با خبر تھا جسے ہم نے بے خبر جانا
ہم اس کے دوست ہیں کیا ذکرِ وصفِ یار کریں
جسے خود اس کے رقیبوں نے معتبر جانا
جہاں پہ طاق ہیں بغض و ریا کے فن میں تمام
اس ایک شخص نے اخلاص کو ہنر جانا
مجھے سب سے محبت ہے
کسی کے ہونٹ تجھ سے ہیں کسی کے گال تجھ سے ہیں
کسی کا قدّوقامت اور خد و خال تجھ سے ہیں
مجھے سب سے محبت ہے
وہ ہے جس کی نظر تجھ سی وہ جس کا رنگ تجھ سا ہے
وہ آنکھیں جس کی تجھ جیسی وہ جس کے بال تجھ سے ہیں
رنج و الم اور آہ و فغاں سب جاری ہیں مجھ میں
آگ پکڑنے والی چیزیں ساری ہیں مجھ میں
مجھ سے میری ہر خواہش سب حرص و ہوس لے جاؤ
بیچ رہا ہوں جو چیزیں بازاری ہیں مجھ میں
میں خود بھی اکثر ان سے زخمی ہو جاتا ہوں
وہ باتیں جو باعثِ دِل آزاری ہیں مجھ میں
جس وقت آنکھیں خواب آئینہ دل ہوتا ہے
شعر نہیں لکھا جاتا نازل ہوتا ہے
تنہا کیوں چلتے ہو کسی کے ساتھ چلو تو
اک رستہ ایسا ہے جو منزل ہوتا ہے
اور کسی کے ہاتھ پہ ہم بیعت نہ کریں گے
دریا صرف سمندر میں شامل ہوتا ہے
ازل سے ہمسفر کیا ہم مقدر تک نہیں ملتے
کنارے آبِ دریا کے سمندر تک نہیں ملتے
بچا آباد آنکھوں کو بہت رونا نہیں اچھا
جہاں سیلاب آتے ہیں وہاں گھر تک نہیں ملتے
گزرگاہیں یہ راز افشا نہیں کرتیں جہاں پہلے
بہت اونچے محل تھے ان کو پتھر تک نہیں ملتے