Tuesday, 22 March 2022

یہاں قیام سے بہتر ہے کوچ کر جانا

 یہاں قیام سے بہتر ہے کوچ کر جانا

وہ با خبر تھا جسے ہم نے بے خبر جانا

ہم اس کے دوست ہیں کیا ذکرِ وصفِ یار کریں

جسے خود اس کے رقیبوں نے معتبر جانا

جہاں پہ طاق ہیں بغض و ریا کے فن میں تمام

اس ایک شخص نے اخلاص کو ہنر جانا

کچھ اس کے ساتھ سفر سہل بھی نہیں تھا مگر

اب اس کے بعد تو مشکل ہے لوٹ کر جانا

کسی کا دکھ بھی ہو سمجھا ہے اپنا دکھ اس نے

غریب خانہ کسی کا ہو اپنا گھر جانا


صفدر صدیق رضی

No comments:

Post a Comment