اس سے پیارا کنول نہیں کوئی
ماں کا نعم البدل نہیں کوئی
جو تیری قرب میں گزارے ہیں
دلکشیں اس سے پل نہیں کوئی
ماں ہی بس ہر خطا پہ کہتی ہے
ٹھیک ہے بیٹا چل، نہیں کوئی
اس سے پیارا کنول نہیں کوئی
ماں کا نعم البدل نہیں کوئی
جو تیری قرب میں گزارے ہیں
دلکشیں اس سے پل نہیں کوئی
ماں ہی بس ہر خطا پہ کہتی ہے
ٹھیک ہے بیٹا چل، نہیں کوئی
مانا کہ بہت زیادہ گنہ گار نہیں ہوں
لیکن تِری فردوس کا حقدار نہیں ہوں
چاہے تو مِرے دل میں کوئی شوق سے آئے
کرتا میں کسی شخص کو اصرار نہیں ہوں
کہتا میں ہر اک شعر نہیں دیکھ، پرکھ کے
لکھتا میں غزل سوچ کے ہر بار نہیں ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو دو جہاں کے لیے ہیں امام آپؐ ہیں وہ
خدا کے بعد ہے جن کا مقام آپؐ ہیں وہ
نبوتوں کی لڑی کا سبھی سے ہوتے ہوئے
ہوا ہے سلسلہ جن پر تمام آپؐ ہیں وہ
بیان کر کے خُدائے کریم کی عظمت
پڑھوں میں جن پہ درودؐ و سلام آپؐ ہیں وہ
مِری آنکھوں کے سمندر بھی اُتر سکتے ہیں
ٹُوٹ کر خواب مِرے یوں بھی بکھر سکتے ہیں
وہ اگر پیار سے دیکھیں تو وہ کر سکتے ہیں
ہم اگر جان سے چاہیں تو گُزر سکتے ہیں
کیا ضروری ہے مجھے جان سے جانا ہو گا
زُلف کے خمِ تر ایسے بھی سنور سکتے ہیں
تری آنکھوں سے تیرے درد کو ہم جان لیتے ہیں
چھپانا لاکھ تُو چاہے مگر پہچان لیتے ہیں
محبت کا صلہ ہم تو محبت سے ہی دیتے ہیں
ہم اپنے سر کسی کا بھی نہیں احسان لیتے ہیں
مِرے حالات نے رُخ ایسا بدلا ہے کہ مت پوچھو
جو پہلے جان دیتے تھے وہی اب جان لیتے ہیں