Showing posts with label کاشف لاشاری. Show all posts
Showing posts with label کاشف لاشاری. Show all posts

Wednesday, 23 March 2022

چاہا نہ ان کو ہوتا دن رات اور ہوتے

 چاہا نہ ان کو ہوتا دن رات اور ہوتے

سنتے نہ بات سب کی، حالات اور ہوتے

دیتے صدا بھی کس کو، کہتے کسی سے کیا کچھ

سادہ دلوں کے جاناں جذبات اور ہوتے

باتیں وصال کی بھی ٹھہری ہیں خواب، یارو

اس ہجر کے علاوہ صدمات اور ہوتے

Monday, 14 February 2022

تعریف لکھوں کیسے میں آپ کی مدحت میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تعریف لکھوں کیسے، میں آپﷺ کی مدحت میں

بس زیست مِری گزرے، ہر وقت اطاعت میں

مجھ خاک کی نسبت ہے سرکارِ دو عالمؐ سے

نازاں ہوں میں قسمت پر، ہوں آپ کی قربت میں

لگتا ہے عمل سارے ڈوبے ہیں ریائی میں

دل میرا نہیں لگتا بالکل بھی عبادت میں

Monday, 31 May 2021

بھول جانے کی بھی تدبیر بتا سکتا ہوں

 بھول جانے کی بھی تدبیر بتا سکتا ہوں

میں اگر چاہوں تمہیں یار بھلا سکتا ہوں

خواہشِ وصل کو میں آگ لگا سکتا ہوں

یوں تِرے ہجر کو آنکھیں بھی دکھا سکتا ہوں

کیا شکایات کروں تجھ سے تِرے بارے میں

تیری دہلیز سے سر اپنا اٹھا سکتا ہوں

Thursday, 22 April 2021

اب مجھ کو درد سہنے کی عادت نہیں رہی

اب مجھ کو درد سہنے کی عادت نہیں رہی

یہ سچ ہے چاہ سے ابھی چاہت نہیں رہی

دو پل کا بھی سکون میسر نہیں مجھے

تڑپا ہوں یوں کہ چین کی حاجت نہیں رہی

دل سے لگا کے یاد کو عاجز ہوا ہوں میں

اب تیری یاد میں وہی راحت نہیں رہی

Tuesday, 12 January 2021

سمجھا ہے جیسا سب نے ویسا نہیں میں صاحب

 سمجھا ہے جیسا سب نے، ویسا نہیں میں صاحب

کہتے ہیں لوگ یونہی، اچھا نہیں میں صاحب

میرا مزاج ہے یہ، سہتا ہوں درد ہنس کر

شکوے، گِلے زباں پر رکھتا نہیں میں صاحب

یہ حوصلہ ہے میرا، نام اس کو جو بھی دیں آپ

ٹوٹا ہوا ہوں پورا، بکھرا نہیں میں صاحب

Monday, 11 January 2021

ترے خیال میں اپنا خیال رکھا ہے

 تِرے خیال میں اپنا خیال رکھا ہے

کہ تیری یاد کو دل میں سنبھال رکھا ہے

اداس شب کے وہ قصے تمام ہو گئے ہیں

سو ذہن و دل سے غموں کو نکال رکھا ہے

تِرے مزاج کے مانند ہے مزاج اپنا

تِرے سوال سے پہلے سوال رکھا ہے

Tuesday, 5 January 2021

دل کو تمام عمر یوں رونے کا دکھ ملا

 دل کو تمام عمر یوں رونے کا دکھ ملا

ہر اک معاملے میں نہ ہونے کا دکھ ملا

کرب و ملال نے مجھے جکڑا ہوا ہے دوست

آنکھوں کو آنسوؤں سے پرونے کا دکھ ملا

میری عقیدتوں میں کمی آ گئی ضرور

یوں اپنے آپ کو تو نہ کھونے کا دکھ ملا

Monday, 4 January 2021

تم سے بچھڑ کے دل مرا بے کل نہیں ہوا

 تم سے بچھڑ کے دل مِرا بے کل نہیں ہوا

اس سانحے کے بعد بھی پاگل نہیں ہوا

دیکھے ہوئے تمہیں کئی صدیاں گزر گئیں

سو ہجر کا معمہ ابھی حل نہیں ہوا

پیاری صدائیں میری تو ان تک نہیں گئیں

صحرا پہ مہرباں کبھی بادل نہیں ہوا

Sunday, 3 January 2021

انہیں فرصت جو مل جائے

 انہیں فرصت جو مل جائے

تو سارے مرحلے آسان ہو جائیں

وفا کا مان بڑھ جائے

جو ان کا مجھ پہ یہ احسان ہو جائے

انہیں فرصت جو مل جائے

مِری حالت سنور جائے

Wednesday, 9 December 2020

اداس رہنے کا اب سلسلہ نہ دے مجھ کو

 اداس رہنے کا اب سلسلہ نہ دے مجھ کو

جو غم دئیے ہیں تو اسکی دوا نہ دے مجھ کو

میں جانتا ہوں کہ میرا نہیں ہے بخت بلند

یوں خشک پتہ سمجھ کر ہوا نہ دے مجھ کو

یہ مان ہے تجھے چاہا ہے، تیرے بن کے رہے

فقط وفا کے عوض تُو بھلا نہ دے مجھ کو

Monday, 16 November 2020

تم سے ہی منسلک یہ حوالوں کی خیر ہو

 تم سے ہی منسلک یہ حوالوں کی خیر ہو

دل میں نہاں سبھی مرے نالوں کی خیر ہو

مانا، عوض وفا کے جفا ہم کو مل گئی

لیکن دعا ہے ایسے ازالوں کی خیر ہو

درکار کچھ نہیں ہمیں ان دونوں کے سوا

بالوں کی خیر ہو، ترے گالوں کی خیر ہو