چاہا نہ ان کو ہوتا دن رات اور ہوتے
سنتے نہ بات سب کی، حالات اور ہوتے
دیتے صدا بھی کس کو، کہتے کسی سے کیا کچھ
سادہ دلوں کے جاناں جذبات اور ہوتے
باتیں وصال کی بھی ٹھہری ہیں خواب، یارو
اس ہجر کے علاوہ صدمات اور ہوتے
چاہا نہ ان کو ہوتا دن رات اور ہوتے
سنتے نہ بات سب کی، حالات اور ہوتے
دیتے صدا بھی کس کو، کہتے کسی سے کیا کچھ
سادہ دلوں کے جاناں جذبات اور ہوتے
باتیں وصال کی بھی ٹھہری ہیں خواب، یارو
اس ہجر کے علاوہ صدمات اور ہوتے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تعریف لکھوں کیسے، میں آپﷺ کی مدحت میں
بس زیست مِری گزرے، ہر وقت اطاعت میں
مجھ خاک کی نسبت ہے سرکارِ دو عالمؐ سے
نازاں ہوں میں قسمت پر، ہوں آپ کی قربت میں
لگتا ہے عمل سارے ڈوبے ہیں ریائی میں
دل میرا نہیں لگتا بالکل بھی عبادت میں
بھول جانے کی بھی تدبیر بتا سکتا ہوں
میں اگر چاہوں تمہیں یار بھلا سکتا ہوں
خواہشِ وصل کو میں آگ لگا سکتا ہوں
یوں تِرے ہجر کو آنکھیں بھی دکھا سکتا ہوں
کیا شکایات کروں تجھ سے تِرے بارے میں
تیری دہلیز سے سر اپنا اٹھا سکتا ہوں
اب مجھ کو درد سہنے کی عادت نہیں رہی
یہ سچ ہے چاہ سے ابھی چاہت نہیں رہی
دو پل کا بھی سکون میسر نہیں مجھے
تڑپا ہوں یوں کہ چین کی حاجت نہیں رہی
دل سے لگا کے یاد کو عاجز ہوا ہوں میں
اب تیری یاد میں وہی راحت نہیں رہی
سمجھا ہے جیسا سب نے، ویسا نہیں میں صاحب
کہتے ہیں لوگ یونہی، اچھا نہیں میں صاحب
میرا مزاج ہے یہ، سہتا ہوں درد ہنس کر
شکوے، گِلے زباں پر رکھتا نہیں میں صاحب
یہ حوصلہ ہے میرا، نام اس کو جو بھی دیں آپ
ٹوٹا ہوا ہوں پورا، بکھرا نہیں میں صاحب
تِرے خیال میں اپنا خیال رکھا ہے
کہ تیری یاد کو دل میں سنبھال رکھا ہے
اداس شب کے وہ قصے تمام ہو گئے ہیں
سو ذہن و دل سے غموں کو نکال رکھا ہے
تِرے مزاج کے مانند ہے مزاج اپنا
تِرے سوال سے پہلے سوال رکھا ہے
دل کو تمام عمر یوں رونے کا دکھ ملا
ہر اک معاملے میں نہ ہونے کا دکھ ملا
کرب و ملال نے مجھے جکڑا ہوا ہے دوست
آنکھوں کو آنسوؤں سے پرونے کا دکھ ملا
میری عقیدتوں میں کمی آ گئی ضرور
یوں اپنے آپ کو تو نہ کھونے کا دکھ ملا
تم سے بچھڑ کے دل مِرا بے کل نہیں ہوا
اس سانحے کے بعد بھی پاگل نہیں ہوا
دیکھے ہوئے تمہیں کئی صدیاں گزر گئیں
سو ہجر کا معمہ ابھی حل نہیں ہوا
پیاری صدائیں میری تو ان تک نہیں گئیں
صحرا پہ مہرباں کبھی بادل نہیں ہوا
انہیں فرصت جو مل جائے
تو سارے مرحلے آسان ہو جائیں
وفا کا مان بڑھ جائے
جو ان کا مجھ پہ یہ احسان ہو جائے
انہیں فرصت جو مل جائے
مِری حالت سنور جائے
اداس رہنے کا اب سلسلہ نہ دے مجھ کو
جو غم دئیے ہیں تو اسکی دوا نہ دے مجھ کو
میں جانتا ہوں کہ میرا نہیں ہے بخت بلند
یوں خشک پتہ سمجھ کر ہوا نہ دے مجھ کو
یہ مان ہے تجھے چاہا ہے، تیرے بن کے رہے
فقط وفا کے عوض تُو بھلا نہ دے مجھ کو
تم سے ہی منسلک یہ حوالوں کی خیر ہو
دل میں نہاں سبھی مرے نالوں کی خیر ہو
مانا، عوض وفا کے جفا ہم کو مل گئی
لیکن دعا ہے ایسے ازالوں کی خیر ہو
درکار کچھ نہیں ہمیں ان دونوں کے سوا
بالوں کی خیر ہو، ترے گالوں کی خیر ہو