تم سے بچھڑ کے دل مِرا بے کل نہیں ہوا
اس سانحے کے بعد بھی پاگل نہیں ہوا
دیکھے ہوئے تمہیں کئی صدیاں گزر گئیں
سو ہجر کا معمہ ابھی حل نہیں ہوا
پیاری صدائیں میری تو ان تک نہیں گئیں
صحرا پہ مہرباں کبھی بادل نہیں ہوا
زخموں سے چُور کر کے بھی کرتے ہیں ظلم لوگ
کہتے ہیں؛ جی رہا ہے یہ گھائل نہیں ہوا
مصرع ہمارے ذہن میں ایسے اترتے ہیں
وارد ہوا ہے ثانی، تو اول نہیں ہوا
مانا کہ سال بیتے ہیں اس کو گئے ہوئے
کاشف وہ آنکھ سے کبھی اوجھل نہیں ہوا
کاشف لاشاری
No comments:
Post a Comment