گھر کے ہوتے ہوئے ہم اپنے نہ گھر جائیں گے
دن گزر جائے گا پر رات کدھر جائیں گے
مشغلہ ان کا مِری ذات کی رسوائی ہے
دیکھتے لوگ تماشہ ہیں گزر جائیں گے
ایک پتھر سے مِرے موم سے دل کو ہے توڑا
سنگ تراشی کا بھی ہم سیکھ ہنر جائیں گے
گردشِ وقت کی رفتار ٹھہر جائے گی
تلخئ جان کے لمحات ٹھہر جائیں گے
اس لیے خوف سے آنکھیں نہیں جھپکی جاتی
ڈر ہے زنداں کے اجالوں سے بھی ڈر جائیں گے
دل سے نکلے جو وہی آنکھ سے گر جاتے ہیں
ٹوٹے شیشوں کی طرح پھر وہ بکھر جائیں گے
اس کو پانے کی توقع نہیں رکھی فرخ
ایک دو دن جو رہا ساتھ تو مر جائیں گے
فرخ جاوید
No comments:
Post a Comment