جب بھی تلوار کو سوچوں تِرے ابرو کی طرح
شوق چھُونے کو بڑھا جائے مہم جو کی طرح
لوگ پڑھ لیں گے نگاہوں سے ہی دل کے احوال
پونچھ لے آنکھ سے تسکین بھی آنسو کی طرح
اپنا سب کچھ تِری چاہت کے حوالے کر کے
دور بستی سے نکل جاؤں گا سادھو کی طرح
عزتِ نفس نے ہر وقت مِرا ساتھ دیا
پیار میں بھیک نہ مانگی کسی بھکشو کی طرح
خط ضرور اس نے مجھے چوم کے لوٹائے ہیں
ورنہ الفاظ چمکتے نہیں جگنو کی طرح
میرے اطراف پراسرار سا ماحول ہے کیوں
چھُو گیا آج مجھے کون یہ جادو کی طرح
خواجہ ثقلین
No comments:
Post a Comment