آئینے سے تمہاری نظر دیر سے ملی
مجھ کو نویدِ شام و سحر دیر سے ملی
دریائے بے خودی کو بھنور دیر سے ملا
پانی کو ساحلوں کی خبر دیر سے ملی
شاید اسی لیے مجھے منزل نہ مل سکی
مجھ کو تمہاری راہگزر دیر سے ملی
بے خواب راستوں میں یہ تعبیر درددل
مل تو گئی ہے مجھ کو، مگر دیر سے ملی
ان کو نہ مل سکی تِرے اجلے بدن کی دھوپ
جن کو ضیائے شمس و قمر دیر سے ملی
افروز رضوی
No comments:
Post a Comment