Showing posts with label اسیر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label اسیر لکھنوی. Show all posts

Sunday, 16 April 2023

اوروں کو اس نے اذن دیا بار عام کا

 اوروں کو اس نے اذن دیا بار عام کا

ہم ڈھونڈتے ہیں دور سے موقع سلام کا

تشبیہ دوں میں کیا تِرے چہرے سے اے قمر

سارا بدن سپید ہے ماہِ تمام کا

ہم جانتے ہیں غیر سے رکھتے ہو راہ تم

پرچہ لگا ہے ہم کو تمہارے پیام کا

Wednesday, 22 March 2023

تن کی آنکھیں تو دو ہی ہوتی ہیں

تن کی آنکھیں تو دو ہی ہوتی ہیں

من کی آنکھیں ہزار ہوتی ہیں

تن کی آنکھیں تو سو ہی جاتی ہیں

من کی آنکھیں کبھی نہ سوتی ہیں

چاند سورج کے ہیں جو محتاج

بھیک نہ مانگو ان اجالوں سے

Saturday, 13 August 2022

بیدلوں سے یہ کمی شاہد رعنا ہو کر

 بے دلوں سے یہ کمی شاہد رعنا ہو کر

جاں مُردوں سے چھپاتے ہو مسیحا ہو کر

پاسِ کافر ہے مجھے خاطرِ دیندار بھی ہے

روز کعبہ کو میں جاتا ہوں کلیسا ہو کر

ہم تِری تیغ کو کیا یاد کریں گے قاتل

پانی پیاسوں کو پلاتی نہیں دریا ہو کر

Wednesday, 3 August 2022

جانے لگے ہیں اب دم سرد آسماں تلک

 جانے لگے ہیں اب دمِ سرد آسماں تلک

ٹھنڈی سڑک بنی ہے یہاں سے وہاں تلک

جلتے ہیں غم سے جان و دل و سینۂ و جگر

چاروں طرف ہے آگ بجھاؤں کہاں تلک؟

بیمار ہو گیا ہوں میں قحطِ شراب سے

لِلہ، لے چلو مجھے پیرِ مغاں تلک

Sunday, 31 July 2022

حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکا

 حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکا

تیغ کی آنچ سے گھر میں مِرے کھانا پکا

جنسِ دل لے کے نہ جاؤں میں کسی اور کے پاس

آپ بیعانہ اگر دیجئے پکا پکا

ہر طرح ہاتھ اٹھانا ہے جہاں سے مشکل

بیٹھ رہنے کو بھی گھر چاہئے کچا پکا

Saturday, 30 July 2022

آہ کب لب پر نہیں ہے داغ کب دل میں نہیں

 آہ کب لب پر نہیں ہے، داغ کب دل میں نہیں

کون سی شب ہے کہ گرمی اپنی محفل میں نہیں

بزم کی کثرت سے اندیشہ مِرے دل میں نہیں

دل میں اس کی ہے جگہ میرے جو محفل میں نہیں

پنجۂ مژگانِ تر نے یہ اڑائیں دھجیاں

تار باقی ایک بھی دامانِ ساحل میں نہیں

Friday, 29 July 2022

نبض بیمار جو اے رشک مسیحا دیکھی

 نبضِ بیمار جو اے رشکِ مسیحا دیکھی

آج کیا آپ نے جاتی ہوئی دنیا دیکھی

لے چلے باغِ جناں میں جو فرشتے ہم کو

دیر تک راہ تِری او گلِ رعنا! دیکھی

ہر جگہ وضع نئی، چال نئی، لوگ نئے

ہم تو جس شہر میں پہنچے نئی دنیا دیکھی