اوروں کو اس نے اذن دیا بار عام کا
ہم ڈھونڈتے ہیں دور سے موقع سلام کا
تشبیہ دوں میں کیا تِرے چہرے سے اے قمر
سارا بدن سپید ہے ماہِ تمام کا
ہم جانتے ہیں غیر سے رکھتے ہو راہ تم
پرچہ لگا ہے ہم کو تمہارے پیام کا
اوروں کو اس نے اذن دیا بار عام کا
ہم ڈھونڈتے ہیں دور سے موقع سلام کا
تشبیہ دوں میں کیا تِرے چہرے سے اے قمر
سارا بدن سپید ہے ماہِ تمام کا
ہم جانتے ہیں غیر سے رکھتے ہو راہ تم
پرچہ لگا ہے ہم کو تمہارے پیام کا
تن کی آنکھیں تو دو ہی ہوتی ہیں
من کی آنکھیں ہزار ہوتی ہیں
تن کی آنکھیں تو سو ہی جاتی ہیں
من کی آنکھیں کبھی نہ سوتی ہیں
چاند سورج کے ہیں جو محتاج
بھیک نہ مانگو ان اجالوں سے
بے دلوں سے یہ کمی شاہد رعنا ہو کر
جاں مُردوں سے چھپاتے ہو مسیحا ہو کر
پاسِ کافر ہے مجھے خاطرِ دیندار بھی ہے
روز کعبہ کو میں جاتا ہوں کلیسا ہو کر
ہم تِری تیغ کو کیا یاد کریں گے قاتل
پانی پیاسوں کو پلاتی نہیں دریا ہو کر
جانے لگے ہیں اب دمِ سرد آسماں تلک
ٹھنڈی سڑک بنی ہے یہاں سے وہاں تلک
جلتے ہیں غم سے جان و دل و سینۂ و جگر
چاروں طرف ہے آگ بجھاؤں کہاں تلک؟
بیمار ہو گیا ہوں میں قحطِ شراب سے
لِلہ، لے چلو مجھے پیرِ مغاں تلک
حسن بے پردہ کی گرمی سے کلیجہ پکا
تیغ کی آنچ سے گھر میں مِرے کھانا پکا
جنسِ دل لے کے نہ جاؤں میں کسی اور کے پاس
آپ بیعانہ اگر دیجئے پکا پکا
ہر طرح ہاتھ اٹھانا ہے جہاں سے مشکل
بیٹھ رہنے کو بھی گھر چاہئے کچا پکا
آہ کب لب پر نہیں ہے، داغ کب دل میں نہیں
کون سی شب ہے کہ گرمی اپنی محفل میں نہیں
بزم کی کثرت سے اندیشہ مِرے دل میں نہیں
دل میں اس کی ہے جگہ میرے جو محفل میں نہیں
پنجۂ مژگانِ تر نے یہ اڑائیں دھجیاں
تار باقی ایک بھی دامانِ ساحل میں نہیں
نبضِ بیمار جو اے رشکِ مسیحا دیکھی
آج کیا آپ نے جاتی ہوئی دنیا دیکھی
لے چلے باغِ جناں میں جو فرشتے ہم کو
دیر تک راہ تِری او گلِ رعنا! دیکھی
ہر جگہ وضع نئی، چال نئی، لوگ نئے
ہم تو جس شہر میں پہنچے نئی دنیا دیکھی