Friday, 23 October 2026

مقابلے کی تھی فضا میں اس طرف نہیں گیا

 مُقابلے کی تھی فضا میں اس طرف نہیں گیا

کہ جس طرف گئی ہوا میں اس طرف نہیں گیا

میں جانتا تھا اس طرف بہشت ہی بہشت ہے

مگر میں آگ میں جلا میں اس طرف نہیں گیا

مجھے تو اپنی راکھ پر بھی انتہا کا ناز تھا

پرائی آگ ڈُھونڈتا میں اس طرف نہیں گیا

تھا اس طرف مِرا کوئی اور اس طرف کوئی نہ تھا

میں اس طرف کا ہو گیا میں اس طرف نہیں گیا

تِرے مِرے خیال میں بس اتنا ہی تو فرق ہے

تُو جس طرف چلا گیا میں اس طرف نہیں گیا

میں اس طرف کے واقعات سب سُنا چُکا تو پھر

یہ راز بعد میں کُھلا میں اس طرف نہیں گیا

سمندروں میں تیرگی بھی مُجھ کو روشنی لگی

چراغ کو اُچھالتا میں اس طرف نہیں گیا

بس ایک میں ہی تھا جو اپنے ساتھ ساتھ چل پڑا

بس اک تُجھے پُکارتا میں اس طرف نہیں گیا


حفیظ عامر

No comments:

Post a Comment