غم اگر جزوِ محبت ہے تو غم اور سہی
ہم ستم ہی کے ہیں قابل تو ستم اور سہی
حوصلہ پست نہ کر دور نہیں منزلِ شوق
عشق کی راہ میں دو چار قدم اور سہی
غمِ جاناں میں غمِ دہر بھی شامل کر لوں
زندگی کے لیے کچھ جنسِ الم اور سہی
غم اگر جزوِ محبت ہے تو غم اور سہی
ہم ستم ہی کے ہیں قابل تو ستم اور سہی
حوصلہ پست نہ کر دور نہیں منزلِ شوق
عشق کی راہ میں دو چار قدم اور سہی
غمِ جاناں میں غمِ دہر بھی شامل کر لوں
زندگی کے لیے کچھ جنسِ الم اور سہی
کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب
حسن کس کا ہے جو بکھرا ہے مِرے دل کے قریب
نا خدا! تیرے حوالے ہے سفینہ دل کا
ڈوب جائے نہ کہیں آ کے یہ ساحل کے قریب
پیشوائی کو چلی جاتی ہے خود ہی منزل
ہے تھکا ماندہ مسافر کوئی منزل کے قریب
آنکھیں غم فراق سے ہیں تر اِدھر اُدھر
غم کا اثر ہے آج برابر ادھر ادھر
تھے جو وفا شعار وہ نذرِ ستم ہوئے
اب کس کو ڈھونڈھتا ہے ستمگر ادھر ادھر
محفل میں تیرے حسن پہ قربان ہو گا کون
دیوانے چل دئیے جو نکل کر ادھر ادھر
عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آئے ہیں
تھک کے بیٹھے ہیں تو منزل کے سلام آئے ہیں
کل یہی لوگ نہ دنیا کو مٹا دیں تو سہی
لے کے جو زندہ و تابندہ نظام آئے ہیں
ان کے دامن پہ ٹپکنے کا ملا ہے اعزاز
ہائے کس وقت یہ آنسو مِرے کام آئے ہیں
ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب کچھ نہیں
حرف و صدا فضول سب لوح و کتاب کچھ نہیں
ان سے کہو کہ اس طرح آنکھوں سے بدگماں نہ ہوں
کیسے عجیب لوگ ہیں کہتے ہیں خواب کچھ نہیں
بیٹھے بٹھائے دل یونہی خود سے اچاٹ ہو گیا
انجمن حواس میں ویسے خراب کچھ نہیں
زندگی ہنستی ہے صبح و شام تیرے شہر میں
عام ہے دورِ مئے گلفام تیرے شہر میں
کس قدر مشہور ہیں وہ لوگ جو ہیں بُوالہوس
اور اک ہم ہیں کہ ہیں بدنام تیرے شہر میں
کوئی سودائی کوئی کہتا ہے دیوانہ مجھے
روز ملتا ہے نیا اک نام تیرے شہر میں