Showing posts with label شمیم فتحپوری. Show all posts
Showing posts with label شمیم فتحپوری. Show all posts

Friday, 19 November 2021

غم اگر جزو محبت ہے تو غم اور سہی

 غم اگر جزوِ محبت ہے تو غم اور سہی 

ہم ستم ہی کے ہیں قابل تو ستم اور سہی 

حوصلہ پست نہ کر دور نہیں منزلِ شوق 

عشق کی راہ میں دو چار قدم اور سہی 

غمِ جاناں میں غمِ دہر بھی شامل کر لوں 

زندگی کے لیے کچھ جنسِ الم اور سہی 

Saturday, 13 November 2021

کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب

 کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب

حسن کس کا ہے جو بکھرا ہے مِرے دل کے قریب

نا خدا! تیرے حوالے ہے سفینہ دل کا

ڈوب جائے نہ کہیں آ کے یہ ساحل کے قریب

پیشوائی کو چلی جاتی ہے خود ہی منزل

ہے تھکا ماندہ مسافر کوئی منزل کے قریب

Friday, 12 November 2021

آنکھیں غم فراق سے ہیں تر ادھر ادھر

 آنکھیں غم فراق سے ہیں تر اِدھر اُدھر

غم کا اثر ہے آج برابر ادھر ادھر

تھے جو وفا شعار وہ نذرِ ستم ہوئے

اب کس کو ڈھونڈھتا ہے ستمگر ادھر ادھر

محفل میں تیرے حسن پہ قربان ہو گا کون

دیوانے چل دئیے جو نکل کر ادھر ادھر

Thursday, 11 November 2021

عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آئے ہیں

 عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آئے ہیں 

تھک کے بیٹھے ہیں تو منزل کے سلام آئے ہیں 

کل یہی لوگ نہ دنیا کو مٹا دیں تو سہی 

لے کے جو زندہ و تابندہ نظام آئے ہیں 

ان کے دامن پہ ٹپکنے کا ملا ہے اعزاز 

ہائے کس وقت یہ آنسو مِرے کام آئے ہیں 

Friday, 26 February 2021

ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب کچھ نہیں

 ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب کچھ نہیں

حرف و صدا فضول سب لوح و کتاب کچھ نہیں

ان سے کہو کہ اس طرح آنکھوں سے بدگماں نہ ہوں

کیسے عجیب لوگ ہیں کہتے ہیں خواب کچھ نہیں

بیٹھے بٹھائے دل یونہی خود سے اچاٹ ہو گیا

انجمن حواس میں ویسے خراب کچھ نہیں

Wednesday, 24 February 2021

زندگی ہنستی ہے صبح و شام تیرے شہر میں

 زندگی ہنستی ہے صبح و شام تیرے شہر میں

عام ہے دورِ مئے گلفام تیرے شہر میں

کس قدر مشہور ہیں وہ لوگ جو ہیں بُوالہوس

اور اک ہم ہیں کہ ہیں بدنام تیرے شہر میں

کوئی سودائی کوئی کہتا ہے دیوانہ مجھے

روز ملتا ہے نیا اک نام تیرے شہر میں