کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب
حسن کس کا ہے جو بکھرا ہے مِرے دل کے قریب
نا خدا! تیرے حوالے ہے سفینہ دل کا
ڈوب جائے نہ کہیں آ کے یہ ساحل کے قریب
پیشوائی کو چلی جاتی ہے خود ہی منزل
ہے تھکا ماندہ مسافر کوئی منزل کے قریب
کوئی گزرا ہے دبے پاؤں یہ شہر دل سے
کس کی آہٹ سی یہ محسوس ہوئی دل کے قریب
میں نے دیکھا انہیں اس راہگزر میں چلتے
میں نے پایا انہیں خلوت کدۂ دل کے قریب
ڈگمگائے جو قدم راہِ محبت میں کبھی
ہم یہ سمجھے کہ شمیم آ گئے منزل کے قریب
شمیم فتحپوری
No comments:
Post a Comment