Saturday, 13 November 2021

کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب

 کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب

حسن کس کا ہے جو بکھرا ہے مِرے دل کے قریب

نا خدا! تیرے حوالے ہے سفینہ دل کا

ڈوب جائے نہ کہیں آ کے یہ ساحل کے قریب

پیشوائی کو چلی جاتی ہے خود ہی منزل

ہے تھکا ماندہ مسافر کوئی منزل کے قریب

کوئی گزرا ہے دبے پاؤں یہ شہر دل سے

کس کی آہٹ سی یہ محسوس ہوئی دل کے قریب

میں نے دیکھا انہیں اس راہگزر میں چلتے

میں نے پایا انہیں خلوت کدۂ دل کے قریب

ڈگمگائے جو قدم راہِ محبت میں کبھی

ہم یہ سمجھے کہ شمیم آ گئے منزل کے قریب


شمیم فتحپوری

No comments:

Post a Comment