سر مرحلۂ ہجر بھی کرنے نہیں دیتا
دل درد کو آنکھوں سے گزرنے نہیں دیتا
جینے بھی نہیں دیتی مجھے گردشِ ایام
اور وقت مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا
دل ہے کہ لیے جاتا ہے اس کوچے میں ہم کو
پھر خود ہمیں اس جا وہ ٹھہرنے نہیں دیتا
تکتا ہے وہ کمبخت بھی بالکل مِرے جیسا
آئینہ اسے ڈھنگ سے سنورنے نہیں دیتا
گوشہ مِری تنہائی کا ہے افلک الافلاک
مجھ کو کسی دنیا میں اترنے نہیں دیتا
یحییٰ خان یوسفزئی
No comments:
Post a Comment