Saturday, 13 November 2021

سر مرحلۂ ہجر بھی کرنے نہیں دیتا

 سر مرحلۂ ہجر بھی کرنے نہیں دیتا

دل درد کو آنکھوں سے گزرنے نہیں دیتا

جینے بھی نہیں دیتی مجھے گردشِ ایام

اور وقت مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا

دل ہے کہ لیے جاتا ہے اس کوچے میں ہم کو

پھر خود ہمیں اس جا وہ ٹھہرنے نہیں دیتا

تکتا ہے وہ کمبخت بھی بالکل مِرے جیسا

آئینہ اسے ڈھنگ سے سنورنے نہیں دیتا

گوشہ مِری تنہائی کا ہے افلک الافلاک

مجھ کو کسی دنیا میں اترنے نہیں دیتا


یحییٰ خان یوسفزئی

No comments:

Post a Comment