Showing posts with label ظہیر تاج. Show all posts
Showing posts with label ظہیر تاج. Show all posts

Wednesday, 19 January 2022

آسودۂ محفل ابھی دم بھر نہ ہوا تھا

 آسودۂ محفل ابھی دم بھر نہ ہوا تھا

وہ کون سا تھا وار جو مجھ پر نہ ہوا تھا

چشمِ ستم ایجاد کی وسعت کے مقابل

یہ تیغ تو کیا چرخِ ستمگر نہ ہوا تھا

پلکوں ہی پہ تڑپا وہ مرے سوز دروں سے

جو اشک ابھی بڑھ کے سمندر نہ ہوا تھا

Sunday, 23 May 2021

مجھ پر سرور چھا گیا بادۂ دلنواز سے

 مجھ پر سرور چھا گیا بادۂ دلنواز سے

دنیا مِری بدل گئی ایک نگاہِ ناز سے

آنکھ میں گر نہ آ سکے دل تو مقام ہے تِرا

خلوتِ دل میں آ کبھی اپنے حریمِ ناز سے

ساقیٔ مہرباں! پِلا بادۂ معرفت اثر

مست بنا کے دے خبر حسنِ ازل کے راز سے

Friday, 21 May 2021

نگاہ شوق کو رخ پر نثار ہونے دو

 نگاہِ شوق کو رُخ پر نثار ہونے دو

یہ رنگ لائے گی کیا کیا بہار ہونے دو

رہینِ جذبۂ بے اختیار ہونے دو

جو ہو رہا ہے کوئی بے قرار ہونے دو

دلِ حزیں کو مِرے جلوہ زار ہونے دو

خزاں نصیب چمن میں بہار ہونے دو

Thursday, 20 May 2021

کیوں وہ محبوب رو برو نہ رہے

 کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے

کیوں نگاہوں میں گفتگو نہ رہے

عشق ہے منتہائے محویت

آرزو کی بھی آرزو نہ رہے

زندگی یہ کہ وہ تجھے چاہیں

موت ہے یہ کہ آبرو نہ رہے

Tuesday, 18 May 2021

نظر کو وسعتیں دے بجلیوں سے آشنا کر دے

 نظر کو وسعتیں دے بجلیوں سے آشنا کر دے

فسانہ طور کا تجدید اے جذبِ رسا کر دے

مٹا دے ذوقِ محویت سے خلوت اور جلوت کو

اگر تو کر سکے دل کو حریمِ دلربا، کر دے

حجاباتِ نظر کب تک کہاں تک دل کی محرومی

مدد اے شوق نظروں کو قیامت آزما کر دے

مرے دل کو محبت خوب گرمائے تو اچھا ہو

 مِرے دل کو محبت خوب گرمائے تو اچھا ہو

خلش بڑھ کر علاجِ درد بن جائے تو اچھا ہو

مِرے اشکِ محبت سے دلوں کے میل دُھل جائیں

مِرا غم زندگی کے کام آ جائے تو اچھا ہو

ہر اک مظلوم کو میری حمایت کا سہارا ہو

مِرا ذوقِ عمل اس راہ پر آئے تو اچھا ہو

Saturday, 27 March 2021

دل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں

 دل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں

چھوڑے ہوئے تیروں کا اثر دیکھ رہے ہیں

ہر روز جفائیں ہیں نئی، اور نیا غم

سو سو طرح عاشق کا جگر دیکھ رہے ہیں

ہر لمحہ زمانے کا ہے ہنگامہ بہ دامن

پیدا ہے قیامت کا اثر دیکھ رہے ہیں