آسودۂ محفل ابھی دم بھر نہ ہوا تھا
وہ کون سا تھا وار جو مجھ پر نہ ہوا تھا
چشمِ ستم ایجاد کی وسعت کے مقابل
یہ تیغ تو کیا چرخِ ستمگر نہ ہوا تھا
پلکوں ہی پہ تڑپا وہ مرے سوز دروں سے
جو اشک ابھی بڑھ کے سمندر نہ ہوا تھا
آسودۂ محفل ابھی دم بھر نہ ہوا تھا
وہ کون سا تھا وار جو مجھ پر نہ ہوا تھا
چشمِ ستم ایجاد کی وسعت کے مقابل
یہ تیغ تو کیا چرخِ ستمگر نہ ہوا تھا
پلکوں ہی پہ تڑپا وہ مرے سوز دروں سے
جو اشک ابھی بڑھ کے سمندر نہ ہوا تھا
مجھ پر سرور چھا گیا بادۂ دلنواز سے
دنیا مِری بدل گئی ایک نگاہِ ناز سے
آنکھ میں گر نہ آ سکے دل تو مقام ہے تِرا
خلوتِ دل میں آ کبھی اپنے حریمِ ناز سے
ساقیٔ مہرباں! پِلا بادۂ معرفت اثر
مست بنا کے دے خبر حسنِ ازل کے راز سے
نگاہِ شوق کو رُخ پر نثار ہونے دو
یہ رنگ لائے گی کیا کیا بہار ہونے دو
رہینِ جذبۂ بے اختیار ہونے دو
جو ہو رہا ہے کوئی بے قرار ہونے دو
دلِ حزیں کو مِرے جلوہ زار ہونے دو
خزاں نصیب چمن میں بہار ہونے دو
کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے
کیوں نگاہوں میں گفتگو نہ رہے
عشق ہے منتہائے محویت
آرزو کی بھی آرزو نہ رہے
زندگی یہ کہ وہ تجھے چاہیں
موت ہے یہ کہ آبرو نہ رہے
نظر کو وسعتیں دے بجلیوں سے آشنا کر دے
فسانہ طور کا تجدید اے جذبِ رسا کر دے
مٹا دے ذوقِ محویت سے خلوت اور جلوت کو
اگر تو کر سکے دل کو حریمِ دلربا، کر دے
حجاباتِ نظر کب تک کہاں تک دل کی محرومی
مدد اے شوق نظروں کو قیامت آزما کر دے
مِرے دل کو محبت خوب گرمائے تو اچھا ہو
خلش بڑھ کر علاجِ درد بن جائے تو اچھا ہو
مِرے اشکِ محبت سے دلوں کے میل دُھل جائیں
مِرا غم زندگی کے کام آ جائے تو اچھا ہو
ہر اک مظلوم کو میری حمایت کا سہارا ہو
مِرا ذوقِ عمل اس راہ پر آئے تو اچھا ہو
دل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں
چھوڑے ہوئے تیروں کا اثر دیکھ رہے ہیں
ہر روز جفائیں ہیں نئی، اور نیا غم
سو سو طرح عاشق کا جگر دیکھ رہے ہیں
ہر لمحہ زمانے کا ہے ہنگامہ بہ دامن
پیدا ہے قیامت کا اثر دیکھ رہے ہیں