سپُردگی کا نشہ خُوشبوئیں لُٹاتا ہُوا
ہوا کے لمس سے اِک پھُول تھرتھراتا ہوا
بِچھڑتے وقت مجھے روکنے تو آئے گا
وہ میرے ہاتھ میں اِک ہاتھ کپکپاتا ہوا
میں آگے بڑھتا ہُوا منزلوں کی خُواہش میں
وہ میری رہ میں نئے راستے بِچھاتا ہوا
کہا یہ وقتِ سحر مجھ سے اِک ستارے نے
میں بُجھ گیا ہُوں تجھے راستے دِکھاتا ہوا
عجیب موڑ تھا ہم تم بِچھڑ رہے تھے مگر
کھڑا تھا پیڑ 🌳 کوئی ہم پہ مُسکراتا ہوا
جہاں پہ تُو نے میرے ساتھ بے وفائی کی
میں بیٹھ جاتا اُنہی راستوں میں گاتا ہوا
رضوان بابر
No comments:
Post a Comment